مظفر گڑھ میں اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کروڑوں روپے مالیت کا اسمگل شدہ سامان قبضے میں لے لیا ہے۔ یہ کارروائی انسداد اسمگلنگ آرگنائزیشن (ASO) ملتان کی جانب سے کی گئی۔
ٹرک سے بڑی مقدار میں فوم برآمد
ایف بی آر کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق مظفر گڑھ میں ایک ٹرک کی تلاشی کے دوران 2700 کلوگرام سگریٹ فلٹر کا فوم برآمد ہوا۔ حکام کے مطابق اس سامان کی مالیت تقریباً 175.5 ملین روپے بتائی گئی ہے۔
یہ برآمدگی اسمگلنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہے، جس کے ذریعے مبینہ طور پر غیر قانونی سامان ملک کے اندر منتقل کیا جا رہا تھا۔
کنٹینر سے غیر ملکی سگریٹس اور ممنوعہ اشیا
مزید کارروائی میں شیر شاہ موٹروے کے قریب ایک کنٹینر کو روکا گیا، جس کی تلاشی کے دوران غیر ملکی سگریٹس اور خشخاش کے بیج برآمد ہوئے۔
حکام کے مطابق کنٹینر سے 135 کارٹن غیر ملکی سگریٹس اور 505 بوریاں خشخاش برآمد کی گئیں، جن کی مجموعی مالیت بھی کروڑوں روپے میں بتائی جا رہی ہے۔
ایف بی آر نے مزید ایک لاکھ 74 ہزار نان فائلرز کی فہرست تیار کر دی
مجموعی مالیت اور کارروائی کی اہمیت
ایف بی آر کے مطابق مجموعی طور پر ضبط کیے گئے اسمگل شدہ سامان کی مالیت 204.9 ملین روپے سے زائد ہے۔ یہ کارروائی ملک میں اسمگلنگ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے، جس کا مقصد غیر قانونی تجارت اور ٹیکس چوری کی روک تھام ہے۔
اسمگلنگ کے خلاف حکومتی اقدامات
پاکستان میں اسمگلنگ ایک طویل عرصے سے معاشی اور سیکیورٹی چیلنج کے طور پر سامنے آتی رہی ہے۔ خاص طور پر تمباکو مصنوعات اور ممنوعہ اشیا کی غیر قانونی ترسیل ریاستی ریونیو کو نقصان پہنچاتی ہے۔
ایف بی آر اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے وقتاً فوقتاً ایسی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں تاکہ غیر قانونی نیٹ ورکس کو ختم کیا جا سکے۔
مظفر گڑھ میں ہونے والی یہ کارروائی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسمگلنگ کے خلاف ادارے سرگرم ہیں اور بڑے پیمانے پر غیر قانونی سامان کی ترسیل کو روکنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے سرحدی نگرانی اور انٹیلی جنس نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
