اسلام آباد: وزارت خزانہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان ایشیائی ترقیاتی بینک (Asian Development Bank) سے 50 کروڑ ڈالر کے مساوی نیا قرض لے گا۔ یہ قرض سرکاری پنشن نظام میں اصلاحات کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں مالی بوجھ کم کیا جا سکے اور نظام کو زیادہ شفاف اور مستحکم بنایا جا سکے۔
قرض کا مقصد اور پس منظر
حکام وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت کا سالانہ پنشن بل 1055 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جس کی وجہ سے سرکاری اخراجات پر قابو پانے کی ضرورت پیدا ہو گئی ہے۔ مجوزہ قرض کا بنیادی مقصد سرکاری ملازمین کے لیے نیا اور پائیدار پنشن نظام متعارف کرانا ہے، جس سے موجودہ پنشن نظام میں گورننس اور نگرانی کے مسائل کم ہوں گے۔
یہ منصوبہ ٹرانسفارمنگ پبلک سیکٹر پنشن پروگرام کے نام سے متعارف کرایا جائے گا، اور اس کے تحت سرکاری اداروں کے لیے تربیتی اور آگاہی پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے تاکہ نظام کی مؤثر عملداری یقینی بنائی جا سکے۔
پاکستان میں ٹیلی کام پر سب سے زیادہ ٹیکس، ایشیائی ترقیاتی بینک
پنشن نظام میں اصلاحات
حکام نے بتایا کہ نئی اصلاحات کے تحت کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم کی نگرانی بہتر بنائی جائے گی اور پنشن نظام میں شفافیت کو فروغ دیا جائے گا۔ اس اقدام سے مستقبل کے مالی بوجھ میں کمی متوقع ہے اور سرکاری ملازمین کے لیے ایک مضبوط اور قابل اعتماد پنشن نظام فراہم کیا جا سکے گا۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اس پروگرام سے سرکاری ملازمین کو بہتر خدمات، مؤثر نگرانی اور مالی تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے گی، اور مجموعی طور پر سرکاری مالیاتی نظام مزید مستحکم ہوگا۔
نئے قرض اور اصلاحات کے ذریعے پاکستان اپنے سرکاری پنشن نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور مالی استحکام کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ مستقبل میں مالی دباؤ کم ہو اور سرکاری ملازمین کے حقوق محفوظ رہیں۔
