مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگی خطرات کے پیش نظر کئی یورپی ممالک نے اپنے شہریوں کو خطہ چھوڑنے یا غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال غیر یقینی ہے، اس لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق متعدد یورپی حکومتوں نے اپنے سفارت خانوں کے ذریعے سفری انتباہات جاری کیے ہیں اور اپنے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ اگر وہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں تو جلد از جلد محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں یا وطن واپسی کا انتظام کریں۔ حکام نے خاص طور پر ان علاقوں کے سفر سے گریز کا مشورہ دیا ہے جہاں کشیدگی یا ممکنہ فوجی کارروائیوں کا خطرہ زیادہ ہے۔
یورپی ممالک نے یہ بھی کہا ہے کہ موجودہ حالات میں فضائی سفر، سرحدی نقل و حرکت اور دیگر سفری سہولیات متاثر ہو سکتی ہیں، اس لیے شہریوں کو اپنی سفری منصوبہ بندی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو ہنگامی صورتحال میں رابطے کے لیے خصوصی ہیلپ لائنز اور رجسٹریشن سروسز بھی فراہم کی ہیں۔
امریکا کا مشرقِ وسطیٰ میں فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ
ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں ممالک عموماً اپنے شہریوں کو پیشگی خبردار کرتے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انہیں محفوظ طریقے سے نکالا جا سکے۔ اس طرح کی سفری ہدایات کا مقصد شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور ممکنہ خطرات سے بچانا ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو مزید ممالک بھی اسی نوعیت کی سفری ہدایات جاری کر سکتے ہیں اور اپنے شہریوں کے انخلا کے منصوبے بھی تیار کر سکتے ہیں۔
