مشرقی ایشیا میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے جب نارتھ کوریا نے سمندر کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل فائر کرنے کا تجربہ کیا۔ یہ میزائل تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خطے میں فوجی سرگرمیاں پہلے ہی تیز ہیں۔
ساؤتھ کوریا کی فوج کے مطابق میزائل شمالی کوریا کے مختلف علاقوں سے فائر کیے گئے اور وہ سمندر کی جانب گرے۔ فوجی حکام نے بتایا کہ میزائلوں کی پرواز اور رفتار کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ان کی نوعیت اور حدِ مار کا تعین کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور جنوبی کوریا مشترکہ فوجی مشقیں کر رہے ہیں۔ پیانگ یانگ ان مشقوں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے اور ماضی میں بھی ان کے جواب میں میزائل تجربات کر چکا ہے۔
شمالی کوریا کا مؤقف ہے کہ امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں اشتعال انگیز ہیں اور اس سے خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے۔ دوسری جانب جنوبی کوریا اور امریکا کا کہنا ہے کہ یہ مشقیں دفاعی نوعیت کی ہیں اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کی جاتی ہیں۔
شمالی کوریا نے پہلی ایٹمی آبدوز کی نئی تصاویر جاری کر دیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے میزائل تجربات خطے میں سیکیورٹی خدشات کو بڑھا دیتے ہیں اور عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات کے بعد عموماً بین الاقوامی سطح پر شمالی کوریا سے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی طرف آنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایسے تجربات جاری رہے تو مشرقی ایشیا میں سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اور عالمی سفارتی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
