روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہےروس نے یوکرین کے مختلف علاقوں پر بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملے کیے جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔
یوکرینی حکام کے مطابق حملوں کا زیادہ تر ہدف توانائی کے بنیادی ڈھانچے تھے، جن میں بجلی گھروں اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض میزائل اور ڈرون رہائشی علاقوں کے قریب بھی گرے جس سے عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
یوکرین کی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے روس کی جانب سے داغے گئے درجنوں ڈرون اور میزائل فضا ہی میں مار گرائے، تاہم کچھ حملے اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کر رہی ہیں اور ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔
روس ایران کی کچھ مدد کر رہا ہے مگر ایرانی حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکے گی، ٹرمپ
دوسری جانب روس کی جانب سے اس حملے کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔ تاہم روس اس سے قبل بھی یوکرین کے توانائی کے نظام کو نشانہ بناتا رہا ہے تاکہ سردیوں یا اہم اوقات میں بجلی کی فراہمی کو متاثر کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے حملے جنگ کے میدان کے ساتھ ساتھ شہری زندگی کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے نظام پر حملوں سے نہ صرف انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
