مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے جنگی خدشات اور سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کئی عالمی فضائی کمپنیوں نے اپنی پروازوں کے راستے تبدیل کر دیے ہیں۔ ایئرلائنز نے احتیاطی اقدام کے طور پر ایسے فضائی راستوں سے گزرنے سے گریز شروع کر دیا ہے جو ممکنہ طور پر خطرناک سمجھے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازوں کو ایران، خلیجِ فارس اور قریبی حساس فضائی حدود سے گزارنے کے بجائے متبادل راستے اختیار کیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ فضائی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات یا کشیدگی کے دوران ایئرلائنز عموماً ایسے علاقوں سے دور رہنے کو ترجیح دیتی ہیں جہاں سیکیورٹی خطرات زیادہ ہوں۔
راستوں کی تبدیلی کے باعث بعض بین الاقوامی پروازوں کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے کیونکہ جہاز اب لمبے اور محفوظ راستوں سے سفر کر رہے ہیں۔ اس سے ایندھن کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے اور بعض اوقات پروازوں کے شیڈول میں تبدیلیاں بھی کرنا پڑتی ہیں۔
ایران نے اردن میں نصب جدید فضائی دفاعی نظام کے ریڈار کو تباہ کردیا تھا
ماہرین کے مطابق عالمی فضائی صنعت ایسے حالات میں مسلسل سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیتی ہے اور ضرورت پڑنے پر فوری فیصلے کیے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی ہوا بازی کے قواعد کے مطابق مسافروں کی سلامتی کو اولین ترجیح دی جاتی ہے، اسی لیے ایئرلائنز خطرے والے علاقوں سے دور رہنے کی پالیسی اختیار کرتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو مزید ایئرلائنز بھی اپنی پروازوں کے راستے تبدیل کر سکتی ہیں اور بعض پروازیں عارضی طور پر معطل بھی کی جا سکتی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث عالمی فضائی سفر اور لاجسٹکس پر بھی اثر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
