امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکے گی اور بالآخر ایرانی عوام خود اس نظام کو تبدیل کر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو روس کی جانب سے کچھ حد تک مدد مل رہی ہے۔
فاکس نیوز ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا روسی صدر ولادیمیر پوٹن ایران کی مدد کر رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ممکن ہے روس کسی حد تک ایران کی مدد کر رہا ہو۔ ان کے مطابق روس کو یہ احساس ہے کہ امریکا یوکرین کی مدد کر رہا ہے، اسی لیے عالمی طاقتیں اپنے اپنے اتحادیوں کی حمایت کرتی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا بھی یوکرین کی مدد کر رہا ہے اور چین بھی اسی طرح کے مؤقف کا اظہار کر سکتا ہے۔ ان کے بقول عالمی سیاست میں اکثر ممالک اپنے مفادات اور اتحادیوں کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ روس ایران کو امریکی فوجی نقل و حرکت اور فضائی سرگرمیوں سے متعلق انٹیلیجنس معلومات فراہم کر رہا ہے۔ اس دعوے کی تصدیق بعض امریکی انٹیلیجنس ذرائع کی جانب سے بھی کی گئی تھی۔
ٹرمپ نے ایران میں رجیم چینج کی کوشش نہ روکی تو تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے: روسی انتباہ
تاہم امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں روس اور چین کا کردار فیصلہ کن عنصر نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی حکومت فوری طور پر نہیں گرے گی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ بالآخر ایرانی عوام ہی موجودہ حکومتی نظام کو تبدیل کریں گے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حالیہ حملوں کے باوجود ایران میں ابھی تک بڑے پیمانے پر احتجاج یا حکومتی اداروں سے کسی بڑے پیمانے پر علیحدگی کے واضح آثار سامنے نہیں آئے ہیں۔
