امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ میں نصف صدی کے بعد پہلی بڑی نئی آئل ریفائنری تعمیر کی جائے گی، جس میں سرمایہ کاری بھارتی ارب پتی مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز کرے گی۔ صدر ٹرمپ نے اس منصوبے کو تاریخی قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ریلائنس انڈسٹریز کی سرمایہ کاری 838 کھرب روپے (تقریباً 300 ارب ڈالر) کے معاہدے کے تحت ہوگی۔ نئی ریفائنری میں سالانہ تقریباً 60 ملین بیرل امریکی شیل آئل کی پروسیسنگ ممکن ہوگی۔ امریکا میں آخری بڑی ریفائنری 1977 میں قائم ہوئی تھی، اور پہلی بار بھارت کی بڑی کمپنی اتنے بڑے ریفائنری منصوبے کو امریکا میں قائم کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق پچاس سال تک امریکا میں نئی بڑی ریفائنری نہ بننے کی وجوہات میں سخت ماحولیاتی قوانین، بہت زیادہ لاگت، مارکیٹ کے غیر یقینی حالات اور موجودہ ریفائنریوں کی توسیع شامل ہیں۔ موجودہ منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران میں جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ رہا ہے اور واشنگٹن توانائی کی فراہمی کو مضبوط بنانے کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق، اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو یہ امریکا میں تقریباً 50 برس بعد تعمیر ہونے والی پہلی بڑی آئل ریفائنری ہوگی۔ اس سے قبل آخری بڑی ریفائنری میرتھون پٹرولیم کی گیری وِل، لوزیانا میں قائم ہوئی تھی جو 1977 میں فعال ہوئی تھی۔
ایران کی تیل تنصیبات پر امریکا اور اسرائیل کے حملے، مختلف علاقوں میں آگ بھڑک اُٹھی
کمپنی کے مطابق یہ تخمینہ اس بنیاد پر لگایا گیا ہے کہ ریفائنری مستقبل میں تقریباً 1.2 ارب بیرل شیل آئل خرید کر پراسیس کرے گی، جس کی مالیت تقریباً 125 ارب ڈالر بنتی ہے، جبکہ اس سے 50 ارب گیلن ریفائنڈ مصنوعات تیار ہوں گی جن کی مالیت تقریباً 175 ارب ڈالر ہوگی۔
یہ منصوبہ امریکی توانائی کی پیداوار اور مارکیٹ میں خود کفالت بڑھانے کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
