امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے دیانتداری کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا تھا اور خفیہ طور پر اپنی جوہری سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ گرمیوں میں امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے باوجود تہران نے اپنا پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔
ٹرمپ کے مطابق ایران درحقیقت اپنے ہتھیاروں کے پروگرام کو کسی اور مقام پر منتقل کر کے دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام بیک وقت روایتی بیلسٹک میزائلوں کی تیاری میں بھی تیزی لا رہے تھے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ میزائل نہ صرف خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے بلکہ مستقبل میں امریکہ کے اندر تک پہنچنے کی صلاحیت بھی حاصل کر سکتے تھے۔
ایرانی جوہری پروگرام پر پیوٹن اور میکرون کے درمیان 2 گھنٹے طویل گفتگو
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت کا مقصد بیلسٹک میزائلوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے ایسا نظام قائم کرنا تھا جس کے بعد اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تقریباً ناممکن ہو جاتا۔
