پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت پیٹرول کا تقریباً 28 دن کا ذخیرہ موجود ہے، اس لیے فوری طور پر اضافی ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت موجودہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق اگر صورتحال برقرار رہی تو توانائی کی بچت اور پیٹرولیم قیمتوں کو منظم رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ درآمدی گیس کا تقریباً 15 دن کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ قطر سے ایل این جی کی سپلائی عارضی طور پر متاثر ہوئی ہے۔
دوسری جانب گورنر نے بریفنگ میں بتایا کہ علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا امکان ہے، جس سے پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر دباؤ اور مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یکم مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ
انہوں نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات اس وقت پاکستان کے قرض کو سالانہ کے بجائے ماہانہ بنیادوں پر رول اوور کر رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں مرکزی بینک نے مارکیٹ سے تقریباً 24 ارب ڈالر خریدے ہیں اور توقع ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر جون 2026 تک 18 ارب ڈالر جبکہ دسمبر 2026 تک 20 ارب ڈالر سے زائد ہو جائیں گے۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس وقت پاکستان کے مجموعی قرضوں اور واجبات کا حجم تقریباً 138 ارب ڈالر ہے۔ رواں مالی سال کے دوران ترسیلات زر کا تخمینہ 42 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جبکہ جی ڈی پی کی شرح نمو حکومتی ہدف 4.2 فیصد کے مقابلے میں 3.7 سے 4.7 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
