اسلام آباد: امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 31افراد شہید61 زخمی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 31 افراد شہید جبکہ 160 سے زائد زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ شہر کے حالیہ برسوں کے بدترین دہشت گرد حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

latest urdu news

پولیس کے مطابق خودکش حملہ جمعہ کی نماز کے دوران اس وقت کیا گیا جب مسجد میں بڑی تعداد میں نمازی موجود تھے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس، ریسکیو ادارے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر امدادی اور سیکیورٹی کارروائیاں شروع کر دیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا تعلق فتنۃ الخوارج سے تھا۔ ذرائع کے مطابق جب دہشت گرد کو امام بارگاہ کے اندر داخل ہونے سے روکا گیا تو اس نے داخلی دروازے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے باعث شدید جانی نقصان ہوا۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے میں اب تک 31 افراد شہید اور 160 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ واقعے کے بعد وفاقی دارالحکومت کے تمام بڑے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ اسپتال حکام کے مطابق زخمیوں کی تعداد 100 سے زائد ہے، جن میں پمز اسپتال میں 60، پولی کلینک میں 13، فیڈرل جنرل اسپتال میں 27 جبکہ بے نظیر بھٹو اسپتال میں 2 زخمی لائے گئے ہیں۔ پمز اسپتال میں گنجائش ختم ہونے کے باعث متعدد زخمیوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکا نماز کی دوسری رکعت میں اس وقت ہوا جب نمازی سجدے میں تھے۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور نے پہلے فائرنگ کی، جس پر سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، اور اسی دوران اس نے خود کو مرکزی دروازے پر دھماکے سے اڑا لیا۔

آئی جی اسلام آباد نے جیو نیوز کو بتایا کہ اس افسوسناک واقعے میں ان کے کزن کا بیٹا بھی شہید ہوا، جو تین منزلہ عمارت میں نماز ادا کر رہا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ترلائی میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کر کے واقعے کی فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کی ہدایت کی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں شرپسندی اور بے امنی پھیلانے کی کسی کو ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے وزیر صحت کو زخمیوں کے علاج معالجے کی نگرانی کا حکم بھی دیا تاکہ متاثرین کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter