پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے ہری پور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت ملک میں کوئی بھی آزاد نہیں، میڈیا پر قدغنیں ہیں، اور جو بھی آواز اٹھاتا ہے اسے پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں حکومت مخالف جماعتیں متحد ہو رہی ہیں، 23 مارچ کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ مینارِ پاکستان پر قراردادِ پاکستان پیش کی گئی تھی، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ایک علیحدہ ریاست قائم کی جائے جہاں مسلمان اپنی مرضی کے مطابق آزاد زندگی گزار سکیں، آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ آزادی نظر نہیں آ رہی۔
عمر ایوب نے کہا کہ پارٹی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے لیے تمام تیاری مکمل تھی اور اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ کر اجازت بھی مانگی گئی، لیکن اجازت نہ ملنے پر احتجاجاً اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ پارٹی کا بالکل درست سیاسی فیصلہ تھا،انہوں نے ملک میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بارڈر پر خاردار باڑ کے باوجود دہشت گردوں کی نقل و حرکت ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، جس کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
عمر ایوب نے عوام کو یقین دلایا کہ تحریک انصاف ہر سطح پر عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی اور آزادی اظہار کے حق کی جنگ جاری رہے گی
