امریکی صدر Donald Trump نے ایک حالیہ انٹرویو میں عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کا اگلا دور آئندہ دو دنوں میں پاکستان میں منعقد ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کے لیے پاکستان ایک موزوں مقام ہو سکتا ہے اور وہ خود بھی اس مقصد کے لیے اسلام آباد جانے پر غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے ملک میں مذاکرات کرنا زیادہ بہتر ہے جو اس معاملے میں براہِ راست دلچسپی رکھتا ہو۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کی عسکری قیادت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے Asim Munir کو ایک مضبوط اور مؤثر رہنما قرار دیا، اور کہا کہ انہی وجوہات کی بنا پر پاکستان کا دورہ دوبارہ متوقع ہے۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر یورپ کی توانائی پالیسیوں پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک اس وقت توانائی بحران کا شکار ہیں جبکہ برطانیہ شمالی سمندر سے تیل نکالنے سے گریز کر رہا ہے، جسے انہوں نے غیر دانشمندانہ فیصلہ قرار دیا۔
ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہوئے تو ٹرمپ خود اسلام آباد آئیں گے، ماہرین کی رائے
انہوں نے مزید کہا کہ شمالی سمندر میں تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود ناروے برطانیہ کو مہنگے داموں تیل فراہم کر رہا ہے، جو یورپ کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کر رہا ہے۔
