لانگ مارچ سے پہلے مذاکرات کیوں نہیں؟ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی وفاقی حکومت کو پیشکش

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر لانگ مارچ کے بعد مذاکرات ہی کرنے ہیں تو حکومت پہلے ہی بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرے۔

latest urdu news

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لانگ مارچ کے بعد حکومت نے مذاکرات ہی کرنے ہیں تو اس سے پہلے بات چیت کیوں نہیں کی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ معاملہ افہام و تفہیم کے ذریعے حل ہو اور اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت کے پاس وقت موجود ہے۔

پشاور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت آئندہ سات دن میں مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو مذاکرات اور باہمی سمجھوتے کے ذریعے ایسا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی خواہش ہے کہ معاملہ سیاسی طریقے سے حل ہو جائے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔

لانگ مارچ میں تاخیر کی وجہ کیا ہے؟

سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ میں تاخیر کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق سیاسی کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ حکومت کو کچھ وقت دیا جائے تاکہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ان کی جانب سے مذاکرات کی بات لانگ مارچ کی کال سے پہلے ہی کی جا چکی تھی۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر وفاقی حکومت کو بات چیت کا موقع دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت واقعی مسئلے کا حل چاہتی ہے تو اسے اس دوران مذاکرات کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔

اسلام آباد کو سومنات بنائیں گے، جنید اکبر کا لانگ مارچ سے متعلق بیان

مولانا فضل الرحمان کو بھی دعوت

سہیل آفریدی نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مولانا فضل الرحمان ان کے پاس آتے ہیں تو انہیں خوش آمدید کہا جائے گا۔

ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت سیاسی رابطوں اور بات چیت کے ذریعے موجودہ صورتحال کا حل تلاش کرنے پر زور دے رہی ہے۔ تاہم، لانگ مارچ کی تاریخ برقرار رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جس سے یہ واضح ہے کہ مذاکرات کی پیشکش کے ساتھ سیاسی دباؤ کا راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔

وزارت اعلیٰ سے ہٹائے جانے پر بھی بیان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ اپنی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں وزارت اعلیٰ کی کرسی سے بھی جانا پڑا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر انہیں نااہل قرار دیا گیا تو ان کا متبادل بانی پی ٹی آئی طے کریں گے۔ انہوں نے اس معاملے کو بھی اپنی سیاسی وابستگی اور پارٹی قیادت کے فیصلے سے جوڑا۔

یوں ایک طرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی پیشکش کی ہے، جبکہ دوسری جانب 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے اس پیشکش پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے، یہ سیاسی صورتحال کے لیے اہم ہوگا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter