وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، لیکن صوبائی حکومت دہشت گردوں کے خلاف واضح مؤقف اختیار نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ صورتحال اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ فیصلے کرنا ہوں گے اور قانون پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
خیبر پختونخوا حکومت پر دہشت گردی کے خلاف اقدامات نہ کرنے کا الزام
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ 2 برس سے دہشت گردی کے واقعات میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ افواج پاکستان دن رات دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا تعاقب کر رہی ہیں اور انہیں ہلاک کر رہی ہیں، تاہم ان کے بقول خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے میں وفاق کے ساتھ مؤثر تعاون نہیں کر رہی اور خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں کرنی چاہییں، کیونکہ امن و امان کا قیام پورے ملک کے مفاد میں ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے 800 ارب روپے دینے کا دعویٰ
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ 10 برس کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے 800 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔
ان کا دعویٰ تھا کہ اتنے بڑے مالی وسائل ملنے کے باوجود صوبائی حکومت محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو مضبوط نہیں بنا سکی۔ شہباز شریف نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ خیبر پختونخوا حکومت وفاق کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بجائے دہشت گردوں کے خلاف واضح بیان دینے سے بھی گریز کرتی ہے۔
وزیراعظم کے اس بیان میں صوبائی حکومت کی کارکردگی، انسداد دہشت گردی کے اداروں کی صلاحیت اور وفاقی و صوبائی تعاون پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
عطا تارڑ کی پی ٹی آئی پر تنقید، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی بڑھنے کا ذمہ دار قرار دے دیا
افغانستان کو بھی بار بار خبردار کیا، وزیراعظم
شہباز شریف نے کہا کہ افغانستان کو دہشت گردی کے معاملے پر متعدد بار سمجھانے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کے بقول مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پانی سر سے گزر چکا ہے اور اب فیصلے کا وقت آ گیا ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کرنے پر زور دے رہی ہے۔
اسلام آباد پر چڑھائی کے منصوبے پر بھی اظہارِ تشویش
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک گروہ اسلام آباد پہنچ کر پاکستان کو دوبارہ تباہی کے دہانے پر لے جانا چاہتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ملک دشمنی اور بدامنی کے معاملے پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ ان کے مطابق حکومت ترقیاتی سرگرمیوں اور سفارتی کامیابیوں کے عمل کو متاثر نہیں ہونے دے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ قانون کا اطلاق ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
دہشت گردی اور سیاسی کشیدگی کے درمیان اہم سوالات
وزیراعظم کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے تعلقات پر سیاسی بحث جاری ہے۔ ایک طرف وفاقی حکومت صوبائی انتظامیہ سے مزید تعاون کا مطالبہ کر رہی ہے، تو دوسری طرف اس معاملے پر سیاسی اختلافات بھی نمایاں ہیں۔
دہشت گردی سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے سکیورٹی اداروں کی صلاحیت، مالی وسائل کے استعمال اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان عملی تعاون اہمیت رکھتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ان معاملات پر واضح حکمت عملی اور قابلِ عمل اقدامات امن و امان کی بہتری کے لیے اہم ہوں گے۔
