وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر مشروط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی صوبے میں گورنر راج نہیں چاہتی، تاہم پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو دہشت گردی کے معاملے پر اپنا واضح مؤقف پیش کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی قیادت کو سوچنا چاہیے کہ وہ ملک کو کس سمت لے جا رہی ہے۔
گورنر راج جمہوری طور پر ناپسندیدہ، مگر آئینی طور پر غلط نہیں: مراد علی شاہ
سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی خواہش نہیں رکھتی۔ تاہم ان کے مطابق ملک کو دہشت گردی جیسے سنگین چیلنج کا سامنا ہے اور اس صورتحال میں تمام سیاسی جماعتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ گورنر راج جمہوری اعتبار سے ناپسندیدہ اقدام ہے، لیکن اسے آئینی طور پر غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی اس معاملے میں براہ راست حمایت کے بجائے حالات اور سیاسی قیادت کے مؤقف کو اہمیت دے رہی ہے۔
پی ٹی آئی کو دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اپنانے کا مشورہ
وزیراعلیٰ سندھ نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہو تو سیاسی قیادت کو اپنے طرز عمل اور فیصلوں پر غور کرنا چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان سے متعلق بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ تاہم مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی خواہاں نہیں۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی تیاریاں؟ پہلے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کی تجویز
سندھ میں آٹے کی قیمتوں پر بھی گفتگو
میڈیا سے گفتگو کے دوران مراد علی شاہ نے سندھ میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر بھی بات کی۔ انہوں نے قیمتوں میں اضافے کو ڈیزل مہنگا ہونے سے جوڑا اور صوبے میں گندم کی قلت کے تاثر کو مسترد کیا۔
پنجاب کی طرز پر سندھ میں آٹے کی قیمتوں میں ریلیف دینے سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی گندم پر سبسڈی دے چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو حکومت مزید سبسڈی بھی فراہم کرے گی۔
سیاسی کشیدگی اور معاشی دباؤ اہم چیلنج
مراد علی شاہ کے بیان میں ایک طرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر مشروط مؤقف سامنے آیا، تو دوسری طرف سندھ میں آٹے کی قیمتوں اور سبسڈی سے متعلق حکومتی پالیسی کی وضاحت بھی کی گئی۔
خیبر پختونخوا میں کسی بھی غیر معمولی آئینی اقدام کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے مؤقف اور متعلقہ آئینی تقاضے اہم ہوں گے، جبکہ سندھ حکومت کے لیے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
