پاکستان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی پالیسیوں سے فلسطین کے علاوہ شام اور لبنان سمیت دیگر پڑوسی ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مکہ اتحاد کو کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ علاقائی امن کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور خطے میں جاری بحرانوں کی بڑی وجہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ کوششیں ہیں، جن کے اثرات صرف فلسطین تک محدود نہیں بلکہ شام، لبنان اور دیگر پڑوسی ممالک بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں علاقائی صورتحال، پاکستان اور امریکا کے تعلقات، بھارتی شہریوں کے لیے ویزوں، کرتارپور راہداری اور شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے متعلق بھی اہم امور پر پاکستان کا مؤقف واضح کیا۔
مکہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں، پاکستان
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا کہ مکہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بنایا گیا بلکہ اس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس اتحاد کو کسی مخصوص ملک کے خلاف اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے تعاون اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
امریکا میں حکومت کسی کی بھی ہو، پاکستان کے تعلقات برقرار رہیں گے
پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ امریکا میں حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو، پاکستان کے اس ملک کے ساتھ ہمیشہ بہترین تعلقات رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تجارت، سرمایہ کاری، سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی سمیت تمام اہم شعبوں میں امریکی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
ترجمان کے مطابق پاکستان امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
بھارتی شہریوں کے لیے ویزوں کی بندش کی تردید
ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان نے بھارتی شہریوں کے لیے ویزوں کا اجرا بند نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان پاکستان آنا چاہیں تو انہیں ویزا جاری کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 9 ہزار سے زائد بھارتی سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے کے ویزے جاری کیے گئے، جبکہ رواں سال بھی 4 ہزار سے زائد بھارتی سکھ یاتریوں کو ویزے فراہم کیے جاچکے ہیں۔
مکہ دفاعی معاہدے میں کوئی خفیہ نکات نہیں، ترجمان دفتر خارجہ
اس بیان کے ذریعے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے سکھ یاتریوں کے لیے مذہبی مقامات کی زیارت کے سلسلے میں ویزوں کی فراہمی جاری ہے۔
کرتارپور راہداری کی بندش پر پاکستان کا مؤقف
کرتارپور راہداری کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے مئی 2025 کے بعد اس راستے کے ذریعے زائرین کی آمدورفت معطل کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندیاں ختم ہوتے ہی پاکستان سکھ یاتریوں کے استقبال اور انہیں سہولتیں فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کرتارپور راہداری ایسے وقت میں قائم کی تھی جب دونوں ممالک کے درمیان بات چیت بھی نہیں ہو رہی تھی۔ اس منصوبے پر اربوں روپے خرچ کیے گئے تاکہ سکھ برادری کو ان کے مقدس مقام تک رسائی حاصل ہو سکے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے راہداری کے ذریعے سکھ یاتریوں کے لیے ضروری سہولتیں فراہم کیں اور اس منصوبے کو مذہبی رسائی کے حوالے سے اہم اقدام کے طور پر مکمل کیا۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کو 20 سے 22 نومبر تک نئی دہلی میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوگیا ہے۔
ان کے مطابق اجلاس میں شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ ادارہ جاتی مشاورت کے بعد قیادت کرے گی۔ اس حوالے سے تاحال پاکستان کی شرکت کی حتمی تصدیق نہیں کی گئی۔
ترجمان کے بیان میں علاقائی بحرانوں، عالمی تعلقات اور پاکستان کی سفارتی ترجیحات سے متعلق متعدد اہم معاملات پر ملک کا مؤقف سامنے آیا ہے۔ خاص طور پر اسرائیل کی پالیسیوں، امریکا کے ساتھ تعاون اور بھارت کے ساتھ مذہبی زیارتوں سے متعلق امور پر پاکستان نے اپنے مؤقف کو دہرایا ہے۔
