جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے مسئلے کو صرف جذبات سے نہیں بلکہ تدبر، حکمت اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان کی آمد ان کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے مشعل ملک نے ان سے رابطہ کیا تھا، جبکہ یاسین ملک نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کے لیے وقف کر رکھی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کشمیری عوام نے ہمیشہ اپنی تحریک پاکستان کے پرچم تلے چلائی اور شہداء کو بھی قومی پرچم میں سپردِ خاک کیا جاتا ہے، اس لیے کشمیر کے مسئلے پر جذباتی فیصلوں کے بجائے دور اندیشی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کا بجٹ اجلاس آج، 286 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کیے جانے کا امکان
انہوں نے بتایا کہ کشمیر کی قیادت پر مشتمل ایک وفد نے ان سے ملاقات کی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا خط بھی پیش کیا۔ ان کے مطابق انہوں نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کچھ وقت مانگا اور دھرنا مؤخر کرنے کا مشورہ دیا، تاہم دھرنا جاری رکھا گیا اور بعد ازاں اس معاملے میں مزید پیش رفت نہ ہو سکی۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی میں بھی اس معاملے پر اظہارِ خیال کر چکے ہیں، جبکہ حکومت مختلف فریقوں سے مشاورت کر رہی ہے، اس لیے حکومتی فیصلوں کا انتظار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر کی جانے والی سفارتی کوششوں کا مؤثر اور مضبوط جواب دینا وقت کی ضرورت ہے۔
