قید اور سزاؤں کا سامنا کرنے والے سابق صدور اور وزرائے اعظم؛ جیل میں کیا سہولتیں میسر رہیں؟

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی سابق صدور اور وزرائے اعظم کو مختلف ادوار میں گرفتاریوں، مقدمات اور قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، آصف علی زرداری اور عمران خان سمیت ملک کے کئی بڑے سیاسی رہنماؤں نے جیل میں مختلف حالات کا سامنا کیا۔

latest urdu news

ذوالفقار علی بھٹو

سابق وزیراعظم اور صدر ذوالفقار علی بھٹو کو ایک قتل کے مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی، جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔ انہیں راولپنڈی سینٹرل جیل میں قید رکھا گیا، جہاں ان کے آخری ایام انتہائی سخت حالات میں گزرے۔

رپورٹس کے مطابق بھٹو کا سیل تقریباً 7 فٹ چوڑا اور 10 فٹ لمبا تھا۔ ابتدا میں سیل میں پلنگ، گدا، چھوٹی میز اور کتابوں کی الماری موجود تھی، تاہم پھانسی سے چند روز قبل ان سے بستر، شیونگ کٹ اور ادویات سمیت متعدد سہولتیں واپس لے لی گئی تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 کو راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

بے نظیر بھٹو

پاکستان اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں متعدد مرتبہ گرفتار اور نظر بند کیا گیا۔ انہیں کراچی، سکھر اور لانڈھی جیل سمیت مختلف مقامات پر قید رکھا گیا۔

اپنی کتاب مشرق کی بیٹی میں بے نظیر بھٹو نے سکھر جیل کے حالات کو انتہائی سخت قرار دیتے ہوئے لکھا کہ سرد موسم میں ان کی کوٹھڑی میں مناسب گرم کپڑے اور کمبل موجود نہیں تھے۔ انہوں نے جیل کے سیل کو گندا اور حشرات الارض سے بھرا ہوا بھی قرار دیا۔

بے نظیر بھٹو کے مطابق قید کے دوران انہیں کان میں شدید انفیکشن کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد طویل عرصے تک درخواستوں کے بعد انہیں علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق جیل میں کھانے اور بنیادی سہولتوں کا معیار بھی انتہائی ناقص تھا۔

نواز شریف

تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کو جنرل پرویز مشرف کے دور میں 1999 کے بعد گرفتار کیا گیا۔ انہیں طیارہ اغوا اور دیگر مقدمات میں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔

بعد ازاں ایک معاہدے کے تحت نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب جانے کی اجازت دی گئی۔ 2018 میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے بعد نواز شریف کو دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا، جہاں انہیں سزا یافتہ قیدی کی حیثیت سے رکھا گیا۔

بشریٰ بی بی کی بہن کے جیل سے متعلق سنگین دعوے، پی ٹی آئی قیادت پر بھی تنقید

نواز شریف کی صحت کے مسائل کے باعث بعد میں انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا اور عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد وہ علاج کی غرض سے بیرون ملک بھی گئے۔

آصف علی زرداری

سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی مختلف ادوار میں طویل قید کا سامنا کیا۔ وہ تقریباً 11 سال تک مختلف مقدمات کے باعث جیل میں رہے، تاہم بعد میں متعدد مقدمات میں انہیں بریت یا ضمانت ملتی رہی۔

زرداری کی قید کے دوران صحت اور طبی سہولتوں کا معاملہ بھی کئی مرتبہ سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع بنا۔ مختلف مواقع پر طبی معائنے اور علاج کے لیے انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔

عمران خان

سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان بھی مختلف مقدمات میں سزا اور طویل قید کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی صحت، جیل میں دستیاب سہولتوں اور اہل خانہ و وکلا سے ملاقاتوں کا معاملہ مسلسل سیاسی اور عدالتی بحث کا حصہ رہا ہے۔

حالیہ عدالتی کارروائی میں سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسلام آباد کے نجی اسپتال منتقل کرنے سے متعلق حکم جاری کیا، جبکہ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست بھی دائر کی۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سابق حکمرانوں کو جیل میں ملنے والی سہولتیں ہر دور میں ایک جیسی نہیں رہیں۔ کسی کو سخت اور محدود حالات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بعض سیاسی رہنماؤں کو صحت، عدالتی احکامات یا قانونی تقاضوں کے تحت اسپتال اور دیگر سہولتیں بھی فراہم کی گئیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter