وفاقی وزیر مواصلات کا کہنا ہے کہ سکھر سے حیدرآباد اور کراچی تک نئی موٹر وے کے منصوبے پر رواں سال کام شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
کراچی حیدرآباد روڈ پر وفاقی وزیر کا مؤقف
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد کے درمیان موجود سڑک کسی بھی لحاظ سے موٹر وے کہلانے کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔ انہوں نے یہ بات کراچی کے گورنر ہاؤس میں گڈز ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
عبدالعلیم خان کے مطابق کراچی حیدرآباد روڈ کی موجودہ صورتحال اور معیار کو دیکھتے ہوئے اسے موٹر وے قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سڑکوں کے معیار اور ٹرانسپورٹ سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات پر توجہ دے رہی ہے۔
سکھر سے کراچی تک نئی موٹر وے کا منصوبہ
وفاقی وزیر مواصلات نے بتایا کہ سکھر سے حیدرآباد اور پھر کراچی تک نئی موٹر وے کی تعمیر کا کام رواں سال شروع کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ملک کے اہم تجارتی مراکز کے درمیان رابطے کو مزید بہتر بنانا اور طویل فاصلے کی مال بردار ٹریفک کے لیے بہتر سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔
کراچی، حیدرآباد اور سکھر کا روٹ سندھ کے اہم ترین تجارتی راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ کراچی ملک کی بڑی بندرگاہوں اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہے، جبکہ اندرون سندھ سے ملک کے دیگر حصوں تک سامان کی ترسیل کے لیے اس روٹ پر گڈز ٹرانسپورٹ کا نمایاں انحصار ہے۔ ایسے میں اس راستے کا بہتر انفراسٹرکچر ٹرانسپورٹ کے شعبے کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
حکومتی یقین دہانی پر گڈز ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال 40 روز کے لیے مؤخر کردی
ٹرانسپورٹرز کے مطالبات پر کمیٹیاں قائم
عبدالعلیم خان نے گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطالبات کے حوالے سے کہا کہ مذاکرات کے دوران جن مسائل کو حل کیا جاسکتا تھا، انہیں حل کیا گیا ہے۔ تاہم بعض مطالبات ایسے ہیں جن کے لیے حکومت کو رسمی کارروائی اور متعلقہ اداروں سے منظوری درکار ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق ان معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ ان کمیٹیوں کے ذریعے ٹرانسپورٹرز کے مطالبات کا جائزہ لیا جائے گا اور متعلقہ امور پر پیش رفت کی جائے گی۔
حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان ہونے والے مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرانسپورٹرز مختلف مطالبات کے حق میں احتجاج اور ہڑتال کر رہے تھے۔ مذاکرات کے بعد ٹرانسپورٹرز نے حکومتی یقین دہانیوں پر اپنی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ احتجاج کیا جاسکتا ہے۔
عبدالعلیم خان نے بھی اس بات پر زور دیا کہ حکومت ٹرانسپورٹرز کے مسائل کو مذاکرات اور متعلقہ فورمز کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے، تاکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پیدا ہونے والے مسائل کا مستقل اور قابلِ عمل حل تلاش کیا جاسکے۔
