ملتان، سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اس وقت ہنگامہ خیز ماحول ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے شخصیات کے بجائے اداروں کی اصلاحات پر جائیں گے۔
ملتان میں میڈیا سے گفتگو کے دوران سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے حکومت سے کہا ہے کہ پہلے آئینی ترامیم کا مسودہ دکھائیں پھر بات ہوگی، شروع میں تو حکومت کسی قسم کا مسودہ دینے پر تیار ہی نہیں تھی۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حکومت نے ایک مسودے کی کاپی پیپلزپارٹی اور ایک ہمیں دی، جسے پڑھنے کے بعد یہ پتہ لگا کہ دونوں مسودوں میں فرق ہے، شہر اقتدار کو اس وقت سنگین صورتحال کا سامنا ہے، اسلام آباد کے ہنگامہ خیز ماحول کے بعد ملتان آیا ہوں۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ بلاول کے ساتھ اپنا اپنا مسودہ دینے کی بات ہوئی، ہمارے وکلا ڈرافٹ کے حوالے سے کام کر رہے ہیں، جلد اسے حتمی شکل دے دی جائے گی، حکومت پارلیمنٹ سے غلط قوانین پاس کرانا چاہتی تھی۔
سربراہ جے یو آئی (ف) کا قومی اسمبلی کے آئینی ترامیم کے اجلاس کے حوالے سے سوال پر اپنے جواب میں کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اکثریت ہی نہیں تھی سارا دارومدار ہمارے ممبران پر کیا جارہا تھا، ہم آئینی ترامیم کے متعلق آج بھی اپنے موقف پر کھڑے ہیں۔
مولانا کا کہنا تھا کہ مسودوں کے حوالے سے کنفوژن ہو گئی تو قومی اسمبلی میں کیا قانون سازی ہو سکتی ہے؟ ہم یہ چاہتے ہیں عدلیہ اور فوج کا احترام ہو، آئین اور عدلیہ کو تہس نہس نہ ہونے دیں گے۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ہیں، لیکن ہمارا پی ٹی آئی کیساتھ کوئی اتحاد نہیں ہے، ہم صرف اصولی سیاست کرتے ہیں۔