اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے مصر اور غزہ کے درمیان سرحدی علاقے سے اپنی فوج نہ ہٹانے کا اعلان کردیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے یہ کہا کہ حماس کی طرف سے متعلقہ سرحد استعمال نہ کرنے کی ضمانت تک فوج رہے گی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں امریکا، مصر اور قطر کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی کے ممکنہ معاہدے کی بربادی سے متعلق دعویٰ بھی سامنے آچکا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے ممکنہ معاہدہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی وجہ سے برباد ہوگیا۔
ادھر تل ابیب میں نیتن یاہو کے خلاف چوتھے روز بھی احتجاج جاری ہے جس میں شریک ہزاروں مظاہرین اسرائیلی وزیراعظم کی حکمت عملی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
مظاہرین نے کہا کہ حماس کیساتھ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی راہ میں رکاوٹ نیتن یاہو کے اپنے سیاسی مفاد ہیں۔
اسکے علاوہ جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک غزہ جنگ بندی معاہدے کی کوششوں کے لیے مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گی، اس دورے کیلئے اینالینا آج سعودی عرب پہنچیں گی۔