ہفتہ, 5 اپریل , 2025

خیبرپختونخوا سے افغان باشندوں کو زبردستی بے دخل نہیں کریں گے، علی امین گنڈاپور

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے واضح کیا ہے کہ صوبائی حکومت کسی بھی افغان باشندے کو زبردستی نہیں نکالے گی، تاہم اگر کوئی خود واپس جانا چاہے تو سہولت فراہم کی جائے گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران علی امین گنڈاپور نے کہا کہ افغانستان میں استحکام کے بغیر پورے خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی غلط پالیسیوں نے لوگوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا ہے، اور ان مسائل کے حل کے لیے اعتماد سازی ضروری ہے۔

latest urdu news

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کسی بھی افغان شہری کو زبردستی بے دخل نہیں کرے گی۔ صوبائی انتظامیہ اور پولیس اس معاملے میں سختی نہیں کریں گی بلکہ کیمپ قائم کیے جائیں گے جہاں سے رضاکارانہ واپسی ممکن بنائی جائے گی۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ کی ہدایت پر ہی افغانستان کے ساتھ مذاکرات کیے جارہے ہیں، لیکن افغان مہاجرین کے حوالے سے وفاقی حکومت کی پالیسی کو وہ غلط سمجھتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک اسلامی ملک ہے، اور یہاں مستقبل کے بڑے واقعات کا مرکز بننے کی پیش گوئیاں کی جاتی رہی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ہونے والے بعض معاہدے اس خطے کی معدنیات سے جڑے ہیں، جس کے بعد یہاں عدم استحکام پیدا کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات پاکستان کے حق میں ہوں تو انہیں ضرور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کو سب سے زیادہ تشویش ملک میں امن و امان اور دہشت گردی کے حوالے سے تھی۔

شیئر کریں:
frontpage hit counter