کھاریاں شہر میں تجاوزات ہٹاؤ، گرین بلٹ منصوبہ پر انتظامیہ کی خود پرستی اور شہر کی سیاسی شخصیات اور سماجی تنظیموں کی خاموشی کوئی نئی بات نہیں، اخبار نویس کھاریاں کو شہر ناپرساں لکھتے ہیں توغلط نہیں لکھتے، جی ٹی روڈ کے اطراف میں انتظامیہ کے دفاتر کی چار دیواریاں بر لب سڑک ہیں لیکن اقرباء پروری میں انہیں نظرانداز کر کے مزدور پیشہ عام شہریوں کے کھوکھے اور فروٹ سبزی فروشوں کے ٹھیلے ہٹوا کر انہیں متبادل جگہ پر جنرل بس سٹینڈ اور مرکزی بازاروں کی عام گذرگاہوں سے کوئی ایک کلو میٹر دور برلب ِ جی ٹی روڈ گورنمنٹ ہائی سکول کے سامنے ریڑی بازار لگایا جا رہا ہے۔
انتظامیہ کے اس عمل پر کھاریاں کے مزدور پیشہ شہری ماتم ہی تو کرسکتے ہیں اس لئے کہ مجوزہ ریڑی بازار خریداروں کی پہنچ سے بہت دور ہے، کیا ہی بہتر ہوگا کہ پولیس سٹیشن، ڈی ایس پی آفس، پوسٹ آفس کی کی عمارات کے پشت پر مین بازار کی طرف میونسپل کمیٹی کے دفتر کی دیوار کے ساتھ غیر آباد اراضی میں جنگل کاٹ کر کھوکھا بازار بنا دیا جائے آرمی ویلفئر ٹرسٹ کے ماڈل کباڑی بازار کے ساتھ خالی اراضی میں ماڈل ریڑی بازار کے لئے سٹیشن کمانڈر سے بھی بات کی جاسکتی ہے لیکن انتظامیہ نے عام مزدور پیشہ شہریوں کا منہ بند کرنے کے لئے متبادل جگہ دینے کے لئے کھاریاں کے محفوط ترین تعلیمی ادارے کے چہرے پر ریڑھی بازار لگانے کا فیصلہ کیا ہے جو کسی طور بھی مناسب نہیں!
کھاریاں شہر میں آٹھواں عجوبہ”زگ زیگ سروس روڈ کے لئے بھی کھاریاں کے قدیم و عظیم درسگاہ گورنمنٹ ہائی سکول کھاریاں کی بیرونی دیوار گرائی گئی لیکن بر لبِ جی ٹی روڈ کسی سرکاری ادارے کے دفاتر کی ناجائز باونڈری وال کو نہیں گرایا گیا!!
انتظامیہ نے ریڑھی بانوں کی بحالی کے لیے گورنمنٹ ہائی سکول کھاریاں کی بیرونی دیوار کو ہی چن کر سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ حالانکہ انتظامیہ کو بخوبی علم ہے کہ اس عمل سے ایک طرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت "اے کیٹیگری” کے سکول کی سیکورٹی کے ساتھ ساتھ ادارے کی خوبصورتی متاثر ہوگی تو دوسری طرف بڑے کاروباری پوائنٹ جنرل بس سٹینڈ گھڑی چوک اور مین بازار سے کم و بیش ایک کلومیٹر دور خوردنوش کی اشیاء ایک عام اور متوسط گاہک کی پہنچ سے دور ہونگی۔
جس سے عام گاہک کی پریشانی کے ساتھ ساتھ متوسط ریڑھی بانوں کا کاروبار بھی یقینا متاثر ہوگا۔ کیا ہی بہتر ہوگا کہ تعلیمی ادارے کی سیکورٹی و خوبصورتی کو مدنظر رکھنے کے ساتھ ساتھ متاثرین تجاوزات کو ایسی جگہ فراہم کی جائے جو کہ گاہک اور دکاندار دونوں کو کاروباری لحاظ سے قابل قبول ہو۔
اس سلسلے میں انتظامیہ کے افسرانِ اعلیٰ، مقامی سیاسی قیادت، ضلعی ارباب اختیار، صحافی اور تاجر برادری، سماجی تنظیموں اور اکابرین کھاریاں شہر سے اپیل ہے کہ تجاوزات کے متاثرین کے لئے متبادل جگہ کے مجوزہ انتخاب پر نظر ثانی کریں، سیکیورٹی صورتحال میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت جی ٹی روڈ پر واقع ہونے کی وجہ سے سکول اور بوائز کالج کو ’’اے کٹیگری‘‘ میں رکھا گیا ہے لہذا سکول اور بوائز کالج میں زیر تعلیم طلبہ کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی یہ مناسب نہیں ہے۔
دوسرا ریڑھی بازار کچھ عرصہ قائم رہے گا اس کے بعد یہ دوبارہ اڈے پر چلا جائے گا اور اس شہر کے کمرشل کلچر کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے یہ جگہ بااثر شخصیات لیز پر لیں گی اور مستقبل میں سکول کے سامنے کھوکھے، دکانیں یا پلازے بن جائیں گے اور گرین بیلٹ کمرشل بیلٹ بن جائے گا۔
ریڑھی کھوکھا بازار کے لئے پولیس سٹیشن، ڈی ایس پی آفس، پوسٹ آفس کی عمارات کی پشت پر میونسپل کمیٹی کے دفتر کی دیوار کے ساتھ غیر آباد اراضی کو آباد کیا جائے، آرمی ویلفر ٹرسٹ کے ماڈل کباڑی بازار کے ساتھ خالی اراضی ماڈل ریڑی بازار کے لئے بہترین متبادل جگہ ہے، شہر کے عین درمیان میں ان مقامات پر ریڑھی کھوکھا بازار متاثرین کے لئے بہترین انتخاب ہوگا!