ماہرین آثارِ قدیمہ نے ترکیہ کے جنوبی ساحل کے قریب سمندر کی تہہ سے قدیم بحری جہاز کا ملبہ دریافت کیا ہے، جس سے ہزاروں سال قبل سمندری سفر اور تجارت کے بارے میں اہم معلومات سامنے آنے کی امید ہے۔ اس مقام سے ملنے والے مٹی کے برتنوں کی عمر تقریباً 4,400 سے 4,700 سال بتائی گئی ہے۔
یہ دریافت قدیم تہذیبوں کے تجارتی روابط، ملاحوں کی روزمرہ زندگی اور سمندری سفر کے دوران استعمال ہونے والی اشیا کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
سمندر کی 100 فٹ گہرائی میں اہم دریافت
ترک وزارتِ ثقافت کے مطابق یہ ملبہ جنوبی ترکیہ میں جزیرہ کیکووا (Kekova Island) کے قریب سمندر کی تقریباً 100 فٹ گہرائی میں موجود ہے۔ ماہرین نے یہاں سے قدیم صراحیاں، لنگر اور دیگر نوادرات دریافت کیے ہیں۔
تحقیق کاروں کے مطابق برتنوں کی قدامت انہیں غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔ ان اشیا کے مطالعے سے یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ اس دور میں بحری جہازوں پر کون سا سامان لے جایا جاتا تھا اور مختلف علاقوں کے درمیان تجارت کس انداز میں ہوتی تھی۔
ملاح زیتون کے تیل کے ساتھ دودھ سے بنی اشیا بھی لے جاتے تھے؟
دریافت ہونے والے برتنوں میں سے بیشتر کو زیتون کا تیل ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے استعمال کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم، ایک صراحی پر موجود مخصوص نشانات نے محققین کی توجہ حاصل کی ہے۔
ماہرین کے مطابق ان نشانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس برتن کو پنیر یا مکھن جیسی اشیا رکھنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہو سکتا ہے۔
اس امکان کی بنیاد پر محققین یہ مفروضہ پیش کر رہے ہیں کہ قدیم ملاح اپنے سفر کے دوران بکریاں بھی ساتھ لے جاتے ہوں گے اور ان کے دودھ سے دہی یا دیگر غذائی اشیا تیار کرتے ہوں گے۔ تاہم، اس بارے میں حتمی نتیجے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔
چار سال پہلے دریافت ہونے والا ملبہ اب کیوں اہم بن گیا؟
اس مہم کی قیادت کرنے والے Akdeniz یونیورسٹی کے پروفیسر ہاکان اونیز (Hakan Öniz) کے مطابق اس مقام کی نشاندہی تقریباً 4 سال پہلے ہوئی تھی، لیکن ابتدائی طور پر خیال کیا گیا کہ وہاں موجود برتن نسبتاً کم قدیم ہیں۔
امریکا میں 36 لاکھ برس قدیم میگالوڈون شارک کا دانت دریافت
بعد ازاں محققین نے مصر میں گیزہ کے اہرام کے قریب دریافت ہونے والی صراحیوں سے متعلق تحقیق کا جائزہ لیا۔ ان کے مطابق وہاں ملنے والے برتن ترکیہ کے ساحل کے قریب دریافت ہونے والی صراحیوں سے مشابہت رکھتے تھے۔
اس مماثلت نے ماہرین کو دوبارہ جانچ کرنے پر آمادہ کیا، جس کے بعد برتنوں کی قدامت کا اندازہ لگایا گیا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ ملبہ اب تک دریافت ہونے والے قدیم ترین بحری ملبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
قدیم تجارت اور سمندری سفر کے نئے شواہد
اس دریافت کی اہمیت صرف جہاز کے ملبے تک محدود نہیں بلکہ اس سے قدیم دور کی معاشی سرگرمیوں اور غذائی ضروریات کے بارے میں بھی معلومات مل سکتی ہیں۔ برتنوں، لنگر اور دیگر نوادرات کا مزید مطالعہ اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ ہزاروں سال پہلے بحری جہاز کس طرح استعمال ہوتے تھے اور ان کے ذریعے سامان کیسے منتقل کیا جاتا تھا۔
ماہرین کے لیے اب اہم مرحلہ دریافت شدہ اشیا کا تفصیلی تجزیہ کرنا ہے، تاکہ اس قدیم بحری سفر، جہاز پر موجود سامان اور اس دور کے تجارتی نظام کے بارے میں مزید شواہد سامنے آ سکیں۔
