اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے
ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بلند ترین سطح پر ہیں۔
برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ، سرمایہ کاروں کا اعتماد معیشت کی مضبوطی کے حوالے سے بڑی کامیابی ہے، مزید بہتری کیلئے بیرون ملک سے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
پالیسی ریٹ 4.5 فیصد کم ہوا ہے، امید ہے ایکسچینج ریٹ اور پالیسی ریٹ ہماری توقع کے مطابق رہیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں فائلرز کی تعداد 16لاکھ سے بڑھ کر 32 لاکھ ہوگئی ہے،گزشتہ سال تقریباً 3 لاکھ نئے فائلرز تھے اور اس سال اب تک 7لاکھ 32ہزار نئے فائلرز آگئے ہیں،اب نان فائلرز جائیداد اور گاڑیاں نہیں خرید سکیں گے۔
وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ وزارتوں میں رائٹ سائزنگ پر کام جاری ہے ،6 وزارتیں ختم کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد ہوگا
جبکہ 2 وزارتوں کو ضم کیا جا رہا ہےاور مختلف وزارتوں میں ڈیڑھ لاکھ پوسٹوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔
مہنگائی کے حوالےسے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں کمی ہوئی ہے اور یہ کوئی ہوائی بات نہیں،حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں مہنگائی کم ہو کر سنگل ڈیجٹ پر آگئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئی ہیں لہٰذا ٹرانسپورٹ کرایوں میں بھی کمی ہونی چاہئے۔
