گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے علی امین گنڈا پور کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کو صوبے کے امن سے کوئی لینا دینا نہیں۔
ملتان میں میڈیا سے گفتگو کے دوران فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ حکومت امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے، وزیراعلیٰ کو جلسے جلوسوں سے فرصت نہیں، پختونخوا حکومت کو 6 سو ارب سکیورٹی کے لیے ملے لیکن پولیس کے پاس تو وسائل ہی نہیںہیں ۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پختونخوا حکومت ایک ہی نعرے پر چل رہی ہے وہ ہے”کرپشن کرپشن کرپشن “ہے، پشاور بی آر ٹی میں کرپشن کھل کر سامنے آئی ہے۔
گورنر پختونخوا کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومتوں میں مسائل ہوتے ہیں، گلے شکوؤں کو دور کریں گے، چیئرمین پیپلزپارٹی آئینی ترامیم سے متعلق اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں،پی پی پی آئینی عدالت کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔
دوسری جانب لاہور کی نجی یونیورسٹی میں خطاب کے دوران سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کسی سینیٹرنے آئینی ترمیم نہیں دیکھی، جو ترامیم کرنا چاہتے ہیں وہ عوام کے سامنے رکھیں، دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاںبغیر دیکھے پڑھے قانون پاس کر دیے جائیں ۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کسی کو اندازہ ہی نہیں کہ آئینی کورٹس کی حدود کیا ہوں گی، ترامیم اس لیے لانا چاہتے ہیں کہ ایک شخص چیف جسٹس نہ بن سکے۔
عوام پاکستان پارٹی کے سر براہ نے اپنے خطاب میں یہ کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اپنے راستے سے ہٹ گئے ہیں، میاں نواز شریف کے پاس خاموش رہنے کا آپشن نہیں ہے، اگر وہ خاموش رہتے ہیں تو کل اسکا ضرور جواب دینا پڑے گا۔
