اسلام آباد، سابق سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی رؤف حسن نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے یہ کہا ہے کہ بالآخر مذاکرات ہی کرنا ہوں گے، آج نہیں تو 2 ماہ بعد مذاکرات ہی ہونگے۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رؤف حسن کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے بات کرنا پڑے گی، عمران خان سے ملاقات کرا دیں قائل کرلوں گا، ابھی نہیں بتا سکتا کہ جماعت میں کون کون مذاکرات کے حق میں ہے۔
وکلا کے احتجاج پر رؤف حسن نے کہا کہ بہت اچھا شو نہیں تھا لیکن یہ ابھی آغاز ہے آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی عمران خان کی رہائی پر دیئے گئے بیان کے بارے رؤف حسن کا کہنا تھا کہ جلسے کی تقریر کو ایک تقریر سے زیادہ اور کچھ نہیں سمجھنا چاہئے۔
رؤف حسن کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے سے متعلق کسی آپشن پر غور نہیں ہو رہا، ہم ہرحال میں آئینی ترمیم کو روکیں گے۔
بانی پی ٹی آئی کا 28 ستمبر کو راولپنڈی میں جلسہ کی بجائے احتجاج کا اعلان
سابق سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ مولانا کیساتھ آئینی ترمیم کے حوالے سے مشاورت جاری ہے، اگر کسی سٹیج پر ضرورت محسوس ہوئی تو ہماری کی طرف سے مشترکہ مسودہ دیا جاسکتا ہے، اس وقت جو سوکالڈ مسودہ ہے وہ ہمیں اور مولانا کو قبول نہیں
