دنیا کا وہ عجیب مقام جہاں بھاری پتھر خودبخود سرکتے ہیں، اس کا راز کیا ہے؟

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ڈیتھ ویلی نیشنل پارک میں ایسے بڑے چٹانی پتھر موجود ہیں جو اپنی جگہ سے سرک کر کئی فٹ آگے چلے جاتے ہیں اور اپنے پیچھے واضح نشانات چھوڑ جاتے ہیں۔ سائنسدانوں نے برسوں کی تحقیق کے بعد اس پراسرار حرکت کی وجہ دریافت کرلی۔

latest urdu news

کیا آپ نے کبھی ایسے پتھروں کے بارے میں سنا ہے جو کسی انسانی مدد کے بغیر خود ہی حرکت کرتے دکھائی دیتے ہیں؟ بظاہر یہ کسی عجیب و غریب واقعے کی طرح لگتا ہے، لیکن امریکا کے ڈیتھ ویلی نیشنل پارک میں یہ ایک حقیقی قدرتی مظہر ہے۔

اس پارک میں واقع ایک خشک جھیل کی تہہ، جسے ریس ٹریک پلایا (Racetrack Playa) کہا جاتا ہے، اپنے حرکت کرتے ہوئے چٹانی پتھروں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں موجود بھاری پتھر اپنی جگہ سے سرکتے ہیں اور نرم زمین پر لمبے نشانات چھوڑ جاتے ہیں، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں کسی نے دھکیل کر آگے بڑھایا ہو۔

200 کلوگرام سے زیادہ وزنی پتھر بھی حرکت کرتے ہیں

ریس ٹریک پلایا میں موجود بعض پتھروں کا وزن 200 کلوگرام سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ یہ پتھر اپنی جگہ سے سرک کر بعض اوقات ایک ہزار فٹ تک کا فاصلہ طے کرلیتے ہیں، جبکہ بعض مواقع پر ان کی رفتار ایک منٹ میں 15 فٹ سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔

اس مظہر کا سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ طویل عرصے تک کسی انسان نے ان پتھروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے حرکت کرتے نہیں دیکھا تھا۔ زمین پر موجود ان کے پیچھے بننے والے نشانات تو واضح تھے، لیکن ان کی حرکت کا اصل طریقہ ایک معمہ بنا ہوا تھا۔

2014 میں ٹائم لیپس فوٹوگرافی کی مدد سے سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ ان پتھروں کی حرکت کو ریکارڈ کیا، جس کے بعد اس قدرتی مظہر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی۔

برف کی پتلی تہہ پتھروں کو حرکت کیسے دیتی ہے؟

2014 میں 2 سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ مخصوص موسمی حالات میں بارش کے بعد جھیل کی خشک سطح پر پانی جمع ہوجاتا ہے۔ سرد درجہ حرارت کے باعث اس پانی کی ایک پتلی اور شفاف برفانی تہہ بن جاتی ہے۔

بعد ازاں جب سورج کی روشنی سے برف پگھلنے لگتی ہے تو اس کے بڑے ٹکڑے پانی کی سطح پر حرکت کرنے لگتے ہیں۔ تیز ہوائیں ان برفانی ٹکڑوں کو دھکیلتی ہیں، جو اپنے ساتھ بھاری پتھروں کو بھی آہستہ آہستہ سرکانے لگتے ہیں۔ سائنسدانوں نے اس عمل کو آئس شوو (Ice Shove) کا نام دیا۔

سائنسدان جیمز نورس نے اس دریافت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ڈیتھ ویلی جیسے انتہائی خشک علاقے میں پتھروں کی حرکت کا یہ عمل دیکھنا غیر معمولی تھا، کیونکہ اس طرح کے مظاہر عموماً آرکٹک کے علاقوں سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔

دنیا کی سب سے زیادہ آسیب زدہ سڑک کہاں واقع ہے؟ پراسرار کہانیاں مشہور

انہوں نے یہ دریافت اتفاقاً کی تھی۔ وہ ان پتھروں کی حرکت کا جائزہ لینے کے لیے وہاں ٹائم لیپس کیمرے نصب کرچکے تھے۔ دسمبر میں جب وہ کیمروں کی جانچ کے لیے واپس پہنچے تو ریکارڈنگ میں تقریباً 60 پتھروں کو آہستہ آہستہ سرکتے ہوئے دیکھا۔

سردیوں میں پتھروں کی حرکت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں

ڈیتھ ویلی نیشنل پارک کی انتظامیہ کے مطابق پتھروں کی یہ پراسرار حرکت عموماً سردیوں میں بارش کے بعد مخصوص حالات میں ہوتی ہے۔ بارش سے ریس ٹریک پلایا کی سطح پر پانی جمع ہوتا ہے، جو سرد موسم میں برف کی پتلی تہہ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد تیز ہوائیں برف اور پتھروں کو حرکت دینے میں کردار ادا کرتی ہیں۔

چونکہ ڈیتھ ویلی میں بارش بہت کم ہوتی ہے اور سالانہ اوسط بارش تقریباً 2 انچ بتائی جاتی ہے، اس لیے پتھروں کی حرکت کے لیے سازگار حالات بھی کم ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اگر مناسب بارش اور دیگر موسمی حالات نہ ہوں تو یہ پتھر ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے تک اپنی جگہ پر موجود رہ سکتے ہیں۔

کیا یہ پتھر حرکت کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں؟

اس قدرتی مظہر کو دیکھنے کے لیے دسمبر سے فروری کے دوران ڈیتھ ویلی نیشنل پارک کا دورہ کیا جاسکتا ہے، تاہم صرف اس موسم میں پہنچ جانا پتھروں کی حرکت دیکھنے کی ضمانت نہیں۔ اس کے لیے بارش، درجہ حرارت، برف اور تیز ہواؤں کا ایک خاص امتزاج ضروری ہے۔

اکثر سیاحوں کو حرکت کرتے پتھر تو نظر نہیں آتے، البتہ ان کے پیچھے زمین پر بننے والے طویل نشانات دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہی نشانات کئی برس تک سائنسدانوں اور سیاحوں کے لیے ایک حیرت انگیز قدرتی معمے کی یادگار بنے رہے، جس کی وجہ بالآخر جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق کی مدد سے سامنے آگئی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں