غیر شادی شدہ اور طلاق یافتہ بیٹیوں کو پنشن سے محروم کرنے کے احکامات کالعدم قرار

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ نے غیر شادی شدہ اور طلاق یافتہ بیٹیوں کو فیملی پنشن سے محروم کرنے کے حکومتی احکامات غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیے، عدالت نے واضح کیا کہ پنشن کوئی سرکاری مہربانی نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

latest urdu news

لاہور ہائیکورٹ نے فیملی پنشن کے معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ غیر شادی شدہ اور طلاق یافتہ بیٹیوں کو پنشن سے محروم کرنے کے لیے جاری کردہ حکومتی ہدایات اور نوٹیفکیشنز قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھے۔

جسٹس سید احسن رضا کاظمی نے تین بیٹیوں کی جانب سے دائر درخواستیں منظور کرتے ہوئے محکمہ خزانہ کی 30 مئی 2025 کی وضاحت کو بلااختیار قرار دے کر کالعدم کردیا۔ عدالت نے دسمبر 2024 اور اگست 2025 کے نوٹیفکیشنز کو بھی متعلقہ حد تک غیر مؤثر قرار دیا ہے۔

فیملی پنشن صرف شریکِ حیات تک محدود نہیں ہوسکتی

تحریری فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ متعلقہ قانون میں ’’فیملی‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، جس کا مفہوم صرف بیوہ یا شوہر تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت کے مطابق قانون میں استعمال ہونے والی اصطلاح کو محدود معنی دے کر غیر شادی شدہ اور طلاق یافتہ بیٹیوں کو پنشن کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ اس حوالے سے عدالت نے قرار دیا کہ انتظامی محکمے اپنی وضاحتوں یا نوٹیفکیشنز کے ذریعے قانون کے دائرہ کار کو محدود نہیں کرسکتے۔

فیصلے میں یہ اصول بھی واضح کیا گیا کہ قواعد و ضوابط اصل قانون سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اگر کسی انتظامی ہدایت یا نوٹیفکیشن کا مواد قانون سے متصادم ہو تو اسے قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوسکتی۔

ریٹائرمنٹ کے بعد بیرون ملک مقیم 33 افسران کو غیر ملکی کرنسی میں پنشن ملنے کا انکشاف

پنشن سرکاری مہربانی نہیں بلکہ قانونی حق ہے

عدالت نے اپنے فیصلے میں پنشن کی قانونی حیثیت پر بھی زور دیا اور قرار دیا کہ پنشن حکومت کی جانب سے دی جانے والی کوئی مہربانی یا رعایت نہیں بلکہ ایک قانونی حق ہے۔

اس اصول کے تحت پنشن سے متعلق فیصلے کرتے وقت متعلقہ قانون اور اس کی اصل روح کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ کسی انتظامی وضاحت کے ذریعے ایسے افراد کے حقوق ختم نہیں کیے جاسکتے جنہیں قانون کے تحت پنشن کا حق حاصل ہو۔

متعلقہ محکموں کو 60 روز میں دوبارہ فیصلہ کرنے کی ہدایت

لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار تینوں بیٹیوں کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے۔

عدالت نے مزید حکم دیا کہ متعلقہ حکام درخواست گزاروں کے معاملات کا قانون کے مطابق ازسرنو جائزہ لیں اور 60 روز کے اندر دوبارہ فیصلہ کریں۔

اس فیصلے کے بعد فیملی پنشن سے متعلق حکومتی پالیسی اور انتظامی ہدایات پر قانونی حدود واضح ہوگئی ہیں۔ اب متعلقہ محکموں کو پنشن کے دعووں پر فیصلہ کرتے ہوئے قانون کی تشریح اور عدالت کی ہدایات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں