صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے اضافی بجلی پر ریلیف کم کرنے کا فیصلہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیپرا نے صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافی بجلی استعمال کرنے پر رعایتی نرخ 2 روپے 32 پیسے فی یونٹ بڑھانے کی منظوری دے دی، جس کے بعد یہ نرخ 22 روپے 98 پیسے سے بڑھ کر 25 روپے 30 پیسے ہوجائیں گے۔

latest urdu news

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے صنعتی اور زرعی شعبوں کے لیے اضافی بجلی کی کھپت پر دیے جانے والے ریلیف میں کمی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت رعایتی پیکج کے نرخ میں فی یونٹ 2 روپے 32 پیسے اضافہ کیا جائے گا، جبکہ نئے نرخ نومبر 2026 کے بلنگ مہینے سے نافذ ہوں گے۔

نیپرا نے اپنا فیصلہ وفاقی حکومت کو بھجوا دیا ہے۔ اس کے مطابق گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صنعتی اور زرعی صارفین کو اضافی یونٹس پر اب 22 روپے 98 پیسے کے بجائے 25 روپے 30 پیسے فی یونٹ ادا کرنا ہوں گے۔

اضافی بجلی کے نرخ 25 روپے 30 پیسے فی یونٹ مقرر

نیپرا کے فیصلے میں اضافی بجلی کی کھپت پر دیے جانے والے رعایتی نرخ میں 2 روپے 32 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس طرح پہلے سے مقرر 22 روپے 98 پیسے فی یونٹ کا نرخ بڑھ کر 25 روپے 30 پیسے ہوجائے گا۔

یہ پیکج عام بجلی کے استعمال پر لاگو نہیں ہوتا بلکہ اس کا فائدہ صرف ان یونٹس پر دیا جاتا ہے جو صارفین گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

وفاقی حکومت صنعتی اور زرعی صارفین کو اضافی بجلی کی کھپت پر فی یونٹ 11 سے 15 روپے تک ریلیف فراہم کر رہی ہے۔ نیپرا کے فیصلے کے بعد اس رعایت کی مالیت میں کمی آئے گی۔

تین سالہ ریلیف پیکج کی تفصیلات

وفاقی حکومت نے زرعی اور صنعتی شعبوں میں بجلی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے تین سالہ ریلیف پیکج متعارف کرایا تھا۔ اس کے تحت اضافی بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے رعایتی نرخ مقرر کیے گئے تھے۔

پیکج کے مطابق زرعی صارفین کے لیے بجلی کا نرخ 38 روپے فی یونٹ جبکہ صنعتی صارفین کے لیے 34 روپے فی یونٹ تھا، تاہم گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں اضافی استعمال ہونے والے یونٹس کے لیے 22 روپے 98 پیسے فی یونٹ کی منظوری دی گئی تھی۔

مہنگی ایل پی جی کے بعد بجلی بھی مہنگی، فی یونٹ 2 روپے 37 پیسے اضافہ

اب اس رعایتی نرخ کو بڑھا کر 25 روپے 30 پیسے فی یونٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کا اطلاق صرف اضافی کھپت پر ہوگا، نہ کہ صارفین کے تمام بجلی یونٹس پر۔

نیپرا کے فیصلے پر دو ارکان کا اختلافی نوٹ

نیپرا کا یہ فیصلہ چیئرمین کے کاسٹنگ ووٹ کے ذریعے منظور ہوا، جبکہ اتھارٹی کے 2 ارکان نے اس سے اختلاف کیا۔

اختلافی نوٹ لکھنے والوں میں ممبر آمنہ احمد اور ممبر مقصود انور خان شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں 25 روپے 30 پیسے فی یونٹ کے مقرر کردہ نرخ کو بے بنیاد قرار دیا۔

دوسری جانب ترجمان پاور ڈویژن نے واضح کیا ہے کہ صنعتی اور زرعی صارفین کے بنیادی بجلی ٹیرف میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق صرف ان شعبوں میں اضافی بجلی استعمال کرنے پر فی یونٹ نرخ میں 2 روپے 32 پیسے تک اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس وضاحت کے بعد بنیادی ٹیرف اور اضافی بجلی کی کھپت کے رعایتی نرخ میں فرق سمجھنا اہم ہے، کیونکہ نیپرا کا موجودہ فیصلہ صرف پیکج کے تحت استعمال ہونے والے اضافی یونٹس سے متعلق ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں