نیپرا نے ستمبر 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخ بڑھا دیے، اضافے کا اطلاق نومبر کے بجلی بلوں میں ہوگا اور کے الیکٹرک صارفین بھی متاثر ہوں گے۔
مہنگی ایل پی جی کے بعد بجلی صارفین پر بھی اضافی مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ستمبر 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 2 روپے 37 پیسے اضافہ کردیا ہے۔
نیپرا کی جانب سے بجلی مہنگی کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے، جس کے مطابق یہ اضافہ ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔ صارفین کو اضافی رقم نومبر 2026 کے بجلی بلوں میں ادا کرنا ہوگی۔
بجلی کی قیمت میں اضافے کا اطلاق کب ہوگا؟
نیپرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق ستمبر 2026 کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت فی یونٹ 2 روپے 37 پیسے اضافے کا اطلاق نومبر کے بلوں میں ہوگا۔ اس طرح متعلقہ صارفین کو اپنے بجلی کے استعمال کے حساب سے اضافی رقم ادا کرنا پڑے گی۔
اس اضافے کا اطلاق صرف سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کے الیکٹرک کے صارفین بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ یعنی کراچی میں کے الیکٹرک کے تحت بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بھی نومبر کے بلوں میں ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی اضافی رقم ادا کرنا ہوگی۔
200 سے ایک یونٹ زیادہ بجلی استعمال کرنے پر اضافی چارجز ختم کرنے پر کام جاری ہے: اویس لغاری
سی پی پی اے نے کتنا اضافہ مانگا تھا؟
اس سے قبل سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے ستمبر 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست جمع کرائی تھی۔
تاہم نیپرا کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صارفین کے لیے فی یونٹ 2 روپے 37 پیسے اضافے کی منظوری دی گئی ہے، جو سی پی پی اے کی درخواست کردہ رقم سے 19 پیسے کم ہے۔
بجلی صارفین پر اضافی مالی دباؤ
بجلی کی قیمتوں میں اس اضافے سے پہلے ہی مہنگائی کا سامنا کرنے والے گھریلو اور کاروباری صارفین کے اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے باعث بجلی کے بلوں میں وقتاً فوقتاً ردوبدل ہوتا رہتا ہے، جس کا براہ راست اثر صارفین کی ادائیگیوں پر پڑتا ہے۔
حالیہ فیصلے کے تحت اضافی رقم نومبر کے بلوں میں وصول کی جائے گی، جبکہ اس کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی ہوگا۔
