امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ٹیکساس میں امیگریشن پالیسی کے حوالے سے اہم تبدیلی، میئر جان وائٹمائر نے معمولی خلاف ورزیوں پر وفاقی امیگریشن حکام سے خودکار رابطہ روک دیا۔
امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں امیگریشن پالیسی کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکا کے چوتھے بڑے شہر کے میئر جان وائٹمائر نے وفاقی امیگریشن ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ساتھ مقامی پولیس کا تعاون محدود کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کردیا ہے۔
یہ فیصلہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد سامنے آیا ہے، جن کے نتائج نے ٹیکساس سمیت امریکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ نئے حکم نامے کے تحت معمولی ٹریفک خلاف ورزیوں اور ایسے غیر متشدد جرائم کے معاملات میں، جن میں قید کی سزا نہیں ہوتی، ہیوسٹن پولیس معمول کے مطابق وفاقی امیگریشن حکام سے رابطہ نہیں کرے گی۔
نئے حکم نامے میں کیا تبدیلی کی گئی؟
میئر جان وائٹمائر کے جاری کردہ حکم کے مطابق کسی شخص کی مشتبہ یا حقیقی امیگریشن حیثیت بذاتِ خود ICE سے رابطے، حراست میں رکھنے کی مدت بڑھانے یا پولیس تحویل برقرار رکھنے کی بنیاد نہیں بنے گی۔
میئر نے پولیس چیف جے نوئے ڈیاز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی ترجیح ایسے افراد ہونے چاہئیں جو عوامی تحفظ کے لیے حقیقی خطرہ ہیں، نہ کہ وہ تارکینِ وطن جو اپنے خاندانوں کے ساتھ پُرامن زندگی گزار رہے ہیں، روزگار کما رہے ہیں یا تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق معمولی ٹریفک خلاف ورزی کی صورت میں پولیس اہلکار متعلقہ شخص کو ٹکٹ یا وارننگ دے کر جانے دیں گے۔ اس اقدام کا مقصد تارکینِ وطن کی کمیونٹیز میں خوف اور عدم تحفظ کم کرنا اور پولیس و شہریوں کے درمیان اعتماد بحال کرنا ہے۔
کن حالات میں پولیس ICE کو اطلاع دے سکے گی؟
ہیوسٹن پولیس چیف جے نوئے ڈیاز نے وضاحت کی کہ نئی ہدایات کے تحت معمول کے سول امیگریشن وارنٹ کی بنیاد پر پولیس خودکار طور پر ICE سے رابطہ نہیں کرے گی۔
تاہم اگر کسی شخص کو ایسے جرم میں گرفتار کیا جاتا ہے جس میں قید کی سزا ہوسکتی ہے اور اس کے خلاف امیگریشن وارنٹ بھی موجود ہو تو پولیس مقررہ طریقہ کار کے مطابق وفاقی حکام کو اطلاع دے سکے گی۔
اس کے بعد زیرِ حراست شخص سے متعلق کارروائی ہیرس کاؤنٹی جیل اور متعلقہ حکام کے دائرہ اختیار میں ہوگی۔ یوں نئے حکم نامے کا مقصد ہر قسم کے وفاقی تعاون کو ختم کرنا نہیں بلکہ معمولی خلاف ورزیوں اور غیر متشدد جرائم کے معاملات میں پولیس کے کردار کو محدود کرنا ہے۔
ٹیکساس کے قانون اور گورنر ایبٹ سے تنازع کا خدشہ
ہیوسٹن میں امیگریشن پالیسی کا معاملہ پہلے بھی ریاستی اور شہری انتظامیہ کے درمیان تنازع کا سبب بن چکا ہے۔
2026 میں ہیوسٹن سٹی کونسل نے ایک ایسی پالیسی ختم کرنے کی کوشش کی تھی جس کے تحت پولیس کو امیگریشن وارنٹ والے افراد کے معاملے میں ICE اہلکاروں کا 30 منٹ تک انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اس وقت ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے شہر کی تقریباً 110 ملین ڈالر کی پبلک سیفٹی گرانٹس روکنے کی دھمکی دی تھی۔
ایبٹ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ یہ پالیسی ریاستی قانون ایس بی 4 سے متصادم ہوسکتی ہے۔ 2017 میں منظور ہونے والے اس قانون کے تحت مقامی اداروں کو وفاقی امیگریشن قوانین کے نفاذ میں تعاون محدود کرنے سے روکا گیا ہے۔
ریاستی حکومت کے دباؤ کے بعد ہیوسٹن کی شہری انتظامیہ نے اپنی پالیسی واپس لے لی تھی اور پولیس کو امیگریشن وارنٹ سامنے آنے پر وفاقی حکام سے رابطے کی ہدایت دی گئی تھی۔
اب میئر وائٹمائر نے ایک مرتبہ پھر طریقہ کار تبدیل کردیا ہے، تاہم ایس بی 4 بدستور نافذ ہے۔ اسی وجہ سے نئے حکم نامے کو قانونی چیلنج کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا امیگرینٹس کے خلاف سخت اقدامات کا آغاز، ملازمتوں اور سہولیات تک رسائی محدود
امیگریشن کارروائیوں کے خلاف عوامی ردعمل
یہ فیصلہ ہیوسٹن میں وفاقی امیگریشن اہلکاروں کی کارروائیوں پر بڑھتے ہوئے عوامی ردعمل کے پس منظر میں بھی سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 7 جولائی کو ایک وفاقی امیگریشن اہلکار کی فائرنگ سے 52 سالہ میکسیکن نژاد تعمیراتی کارکن لورینزو سالگاڈو آراؤخو ہلاک ہوگئے تھے، جو تقریباً 35 سال سے امریکا میں مقیم تھے۔
وفاقی حکام کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے اپنی گاڑی کے ذریعے اہلکار کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی، تاہم اہلخانہ اور بعض عینی شاہدین نے اس مؤقف سے اختلاف کیا۔ واقعے کے بعد شہر میں احتجاج ہوا اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔
اسی طرح 10 اکتوبر کو ICE اہلکار ماریو البرٹو مورالیس کی گاڑی کی زد میں آکر میکسیکن شہری میگوئل پارا ہرنانڈیز کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ 30 اکتوبر کو ہیرس کاؤنٹی کی گرینڈ جیوری نے مورالیس پر گاڑی کو مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے سنگین حملے کی فردِ جرم عائد کی۔
استغاثہ کے مطابق نگرانی کے کیمروں کی ویڈیو میں اہلکار کی گاڑی ایک فرار ہوتے شخص کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے، جبکہ ICE اور اہلکار کے وکلا کا مؤقف ہے کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا حملہ نہیں تھا۔ مقدمہ زیرِ سماعت ہے اور الزام تاحال ثابت نہیں ہوا۔
تارکینِ وطن کے حقوق کی تنظیموں کا خیرمقدم، ICE کی مخالفت
تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم FIEL کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیزر ایسپینوسا نے میئر کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
ان کے مطابق اس اقدام سے ان خاندانوں کو اطمینان ملے گا جو بچوں کو اسکول لے جانے یا روزمرہ کے کاموں کے دوران بھی پولیس کا سامنا کرنے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔
دوسری جانب سٹی کنٹرولر کرس ہولنز نے فیصلے کو ایک مثبت ابتدائی قدم قرار دیا، تاہم یہ سوال بھی اٹھایا کہ میئر نے اس اقدام کے لیے انتخابی نتائج کا انتظار کیوں کیا، جبکہ کمیونٹی کئی ماہ سے اس کا مطالبہ کر رہی تھی۔
وفاقی امیگریشن ادارے ICE نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مقامی حکومتوں کو امیگریشن قوانین کے نفاذ میں تعاون محدود نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ وفاقی اہلکار اپنے قانونی فرائض انجام دے رہے ہیں۔
کیا دوسرے امریکی شہر بھی ہیوسٹن کی پیروی کریں گے؟
واضح رہے کہ میئر کا نیا حکم نامہ ICE اہلکاروں کی کارروائیوں پر براہِ راست پابندی عائد نہیں کرتا اور نہ ہی غیر قانونی امیگریشن کو قانونی حیثیت دیتا ہے۔ اس کا تعلق صرف ہیوسٹن پولیس کے مقامی طریقہ کار سے ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا ڈیلاس، آسٹن اور سان انتونیو جیسے ٹیکساس کے دیگر بڑے شہر بھی ہیوسٹن کی پالیسی کی پیروی کریں گے۔
دوسری جانب نومنتخب گورنر جینا ہینو ہوزا جنوری 2027 میں عہدہ سنبھالیں گی، جبکہ موجودہ ریپبلکن انتظامیہ کی مدت ابھی باقی ہے۔ ایسے میں آنے والے ہفتوں کے دوران مقامی، ریاستی اور وفاقی حکومتوں کے اختیارات کے درمیان قانونی اور سیاسی کشمکش مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔
