مولانا فضل الرحمان نے کبھی گورنر شپ نہیں مانگی، رانا ثنا اللہ کا اہم بیان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم کے مشیر کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مولانا فضل الرحمان کا ساتھ لینا چاہیے، سہیل آفریدی پر بھی تنقید کی۔

latest urdu news

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے کبھی گورنر شپ یا کسی دوسرے عہدے کا مطالبہ نہیں کیا۔

ایک بیان میں رانا ثنا اللہ نے مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے گردش کرنے والی قیاس آرائیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حکومت کی جانب سے کسی عہدے کی پیشکش یا مطالبے سے متعلق کوئی ایسی بات معلوم نہیں جس کی تصدیق کی جاسکے۔

انہوں نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں مولانا فضل الرحمان کا ساتھ حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا فضل الرحمان کی گورنر شپ سے متعلق کیا کہا؟

رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے ان سے کبھی گورنر شپ یا کسی دوسرے عہدے کا تقاضا نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے اس حوالے سے کوئی بات چیت ہوئی ہے تو وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔

وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں جاری نوٹسز کا معاملہ بھی بات چیت کے ذریعے حل ہوسکتا ہے اور اسے طے کیا جاسکتا ہے۔

ان کے اس بیان کو مولانا فضل الرحمان کے سیاسی کردار اور خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف مولانا فضل الرحمان کا ساتھ لینے پر زور

رانا ثنا اللہ نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مولانا فضل الرحمان سمیت تمام سیاسی رہنماؤں کو اعتماد میں لینا چاہیے۔

ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ محض ایک جماعت یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس مقصد کے لیے سیاسی اتفاق رائے اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبے میں امن قائم کرنے کے لیے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر قومی مفاد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

نواز شریف کے بیان کے وقت باجوہ اور فیض ذاتی طور پر ملوث تھے: رانا ثنا اللہ

سہیل آفریدی پر رانا ثنا اللہ کی تنقید

وزیراعظم کے مشیر نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حوالے سے بھی سخت بیان دیا۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی انہیں کہتے تھے کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی محبت میں جان دے دیں گے، لیکن دوسری جانب وہ خود محسن نقوی سے ملاقاتیں کرتے رہے۔

انہوں نے عمران خان سے ملاقاتوں کی بندش سے متعلق بھی اپنا مؤقف پیش کیا۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں اس لیے بند ہوئیں کیونکہ ملاقاتوں کے ذریعے پیغامات باہر بھیجے جاتے تھے اور سیاسی بیانیے تشکیل دیے جاتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ افراد کو بار بار کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر ٹرولنگ اور اس نوعیت کی سرگرمیاں بند کریں، لیکن ان ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا، جس کے بعد ملاقاتیں روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔

رانا ثنا اللہ کے اس بیان میں ایک طرف مولانا فضل الرحمان کے ساتھ سیاسی تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تو دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے طرز عمل پر تنقید کی گئی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں