نواز شریف کے بیان کے وقت باجوہ اور فیض ذاتی طور پر ملوث تھے: رانا ثنا اللہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس وقت نواز شریف نے بعض معاملات کی نشاندہی کی تھی، اس وقت کے حالات مختلف تھے اور ان معاملات میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید ذاتی طور پر ملوث تھے۔

latest urdu news

رانا ثنا اللہ نے یہ گفتگو پارلیمنٹ ہاؤس میں جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اس وقت متعلقہ شخصیات کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا تھا کہ انہیں ان معاملات میں نہیں پڑنا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان کے بیان پر رانا ثنا اللہ کا ردعمل

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کے سابقہ بیان کا حوالہ دیا، تاہم اس وقت کے حالات کو موجودہ صورتحال سے الگ کرکے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق نواز شریف نے اس وقت جن معاملات کی نشاندہی کی تھی، ان میں جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اور جنرل (ر) فیض حمید ذاتی طور پر ملوث تھے۔

رانا ثنا اللہ کا یہ بیان ماضی کے سیاسی واقعات اور ان میں مختلف شخصیات کے کردار سے متعلق ان کا مؤقف ہے۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج پر بھی اظہار خیال

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو اس موضوع پر اپنے انداز میں بات کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو پختونوں سے منسلک کرنا قومی یکجہتی کے لیے مناسب نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں ان دنوں مولانا فضل الرحمان کا غصہ زیادہ ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان کا غصہ معمول پر آجائے گا۔

ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے الزامات پر سوال، رانا ثنا اللہ جیو نیوز کے سوال پر برہم ہو گئے

محسن نقوی کے بیان پر کیا جواب دیا؟

صحافی نے رانا ثنا اللہ سے وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان کے بارے میں سوال کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ مطلوبہ حصہ اور گورنرشپ نہ ملنے پر ناراض ہیں۔

جواب میں رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ان کی ایک ملاقات ہوئی تھی، جس میں سردار ایاز صادق، طارق فضل چوہدری اور وہ خود شریک تھے۔ اس کے بعد وزیراعظم کے ساتھ بھی ایک اور ملاقات ہوئی۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق ان ملاقاتوں کے دوران مولانا فضل الرحمان نے اس نوعیت کی کوئی بات نہیں کی تھی۔

سیاسی اختلافات اور مشاورت کا معاملہ

رانا ثنا اللہ کے بیان میں مولانا فضل الرحمان کے مؤقف، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور حکومتی ملاقاتوں سے متعلق مختلف پہلو سامنے آئے ہیں۔ ان کے تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت اور صوبائی معاملات پر اختلافات زیر بحث ہیں۔

تاہم گورنر راج اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات سے متعلق آئندہ پیش رفت کا انحصار متعلقہ رہنماؤں کے بیانات اور حکومتی فیصلوں پر ہوگا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں