امریکی سینیٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے 67 ووٹ لازمی ہوں گے، ڈیموکریٹس کے تمام ارکان کی حمایت کے باوجود مزید 13 ووٹ حاصل کرنا پڑیں گے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے اور انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کو سینیٹ میں مزید 13 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ امریکی آئین کے تحت صدر کو مواخذے کے ذریعے عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت، یعنی 100 میں سے کم از کم 67 ووٹ حاصل کرنا ضروری ہیں۔
امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد سامنے آنے والی سیاسی صورتحال میں ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں 54 نشستیں حاصل ہونے کی صورت میں بھی وہ تنہا صدر کو عہدے سے ہٹانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔ اگر پارٹی کے تمام 54 ارکان مواخذے کے حق میں ووٹ دیں تو بھی انہیں مزید 13 سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔
امریکی سینیٹ میں مواخذے کے لیے 67 ووٹ کیوں ضروری ہیں؟
امریکی آئین کے مطابق صدر، نائب صدر اور دیگر وفاقی عہدیداروں کے مواخذے کے عمل میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا الگ الگ کردار ہوتا ہے۔
سب سے پہلے ایوان نمائندگان میں صدر کے خلاف مواخذے کی قرارداد پیش کی جاتی ہے۔ اگر ایوان سادہ اکثریت سے مواخذے کی منظوری دے دے تو معاملہ سینیٹ میں بھیج دیا جاتا ہے، جہاں صدر کے خلاف باقاعدہ ٹرائل ہوتا ہے۔
تاہم صرف ایوان نمائندگان کی جانب سے مواخذے کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ صدر فوری طور پر عہدے سے ہٹ جائیں گے۔ سینیٹ میں مقدمے کی سماعت اور ووٹنگ کے بعد ہی اس حوالے سے حتمی فیصلہ ہوتا ہے۔
امریکی آئین کے تحت صدر کو مجرم قرار دینے اور عہدے سے ہٹانے کے لیے موجود سینیٹرز کے دو تہائی ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 100 رکنی سینیٹ میں 67 ووٹوں کی حمایت ضروری ہے۔
ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات میں شکست تسلیم کرلی، ایران جنگ کو وجہ قرار دے دیا
سادہ اکثریت صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے کافی نہیں
امریکی سینیٹ میں 51 یا اس سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا عام قانون سازی کے بیشتر معاملات میں اہمیت رکھتا ہے، تاہم صدارتی مواخذے میں آئینی تقاضے مختلف ہیں۔
اس عمل میں ڈیموکریٹس کو صرف اپنی جماعت کے ارکان پر انحصار کرنے کے بجائے ری پبلکن پارٹی کے بعض سینیٹرز کی حمایت بھی حاصل کرنا ہوگی۔
اگر مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ ہوسکی تو صدر کو اس مواخذے کے نتیجے میں عہدے سے نہیں ہٹایا جاسکے گا۔
ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات بڑھنے کا امکان
سیاسی مبصرین کے مطابق مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافہ کرسکتی ہے، خصوصاً اس صورت میں جب ایوان نمائندگان کا کنٹرول بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔
ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل ہونے سے ڈیموکریٹس کو حکومتی پالیسیوں کی نگرانی، تحقیقات اور مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کے حوالے سے زیادہ سیاسی اختیار حاصل ہوسکتا ہے۔
تاہم صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں 67 ووٹوں کا حصول ایک بڑی آئینی اور سیاسی رکاوٹ رہے گا۔ اس لیے ڈیموکریٹس کی انتخابی کامیابی کے باوجود ٹرمپ کا مواخذہ اور انہیں منصب سے ہٹانا الگ اور پیچیدہ مراحل پر مشتمل ہوگا۔
