جے یو آئی کا گورنر راج میں حصہ نہ مانگنے کا دعویٰ معصومیت ہے، خواجہ آصف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کا یہ کہنا معصومیت کا اظہار ہے کہ اس نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر کبھی حصہ نہیں مانگا۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ان کے اچھے مراسم ہیں، تاہم حالیہ اختلافات کی نوعیت پہلے سے مختلف ہے۔

latest urdu news

جیو نیوز کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اپنے اختلافات اور خیبر پختونخوا کی سیاسی صورت حال پر اظہار خیال کیا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان سے ماضی میں بھی اختلافات رہے ہیں، لیکن معاملات کبھی اس نہج تک نہیں پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کو فوری طور پر جواب نہیں دینا چاہتے تھے۔

مولانا فضل الرحمان سے تعلقات پر خواجہ آصف کا مؤقف

وزیر دفاع نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ان کے اچھے مراسم ہیں اور انہیں ان کی ذات پر تنقید سے کوئی مسئلہ نہیں۔ تاہم، ان کے بقول مولانا فضل الرحمان حکومت کی ساکھ پر حملہ کر رہے تھے، جس پر انہیں اپنا مؤقف پیش کرنا پڑا۔

خواجہ آصف نے جے یو آئی کے اس مؤقف پر بھی تنقید کی کہ جماعت نے گورنر راج کے معاملے میں کبھی حصہ نہیں مانگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا دعویٰ معصومیت کا اظہار ہے۔

خیبر پختونخوا میں کرپشن پر تنقید

خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 سال کے دوران بدعنوانی میں اضافے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں کرپشن عروج پر پہنچ گئی ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ترقیاتی فنڈز کے لیے بڑی رقوم حاصل کی جاتی تھیں، لیکن ان میں سے پیسہ عوامی ترقی پر خرچ ہونے کے بجائے جیبوں میں چلا جاتا تھا۔

13 سال تک عوامی خدمت کے بجائے بڑے بڑے دعوے کیے، وزیراعظم کے پی حکومت پر برس پڑے

وزیر دفاع نے اپنے بیان میں ان الزامات کی مزید تفصیلات پیش نہیں کیں، تاہم انہوں نے صوبے میں ترقیاتی فنڈز کے استعمال اور حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔

پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات کا دعویٰ

خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اندرونی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جماعت میں کئی گروپس موجود ہیں اور ہر گروپ دوسرے کے ساتھ محاذ آرائی کی کیفیت میں ہے۔

ان کے مطابق پارٹی کے اندر گروپ بندی اور باہمی اختلافات نمایاں ہیں۔ وزیر دفاع کے ان بیانات میں خیبر پختونخوا کی سیاست، گورنر راج سے متعلق مؤقف اور پی ٹی آئی کی اندرونی صورت حال پر حکومتی نقطہ نظر سامنے آیا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں