بوگاٹی کے سربراہ نے گاڑی چرانے والے کا 2 ممالک تک پیچھا کیا، پھر گھر چھوڑنے کی پیشکش بھی کردی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

دنیا کی مہنگی ترین لگژری گاڑیوں میں شمار ہونے والی بوگاٹی شیرون چوری ہوگئی تو کمپنی کے سربراہ میٹ ریماک خود چور کے پیچھے نکل پڑے۔ انہوں نے گاڑی کا تعاقب کرتے ہوئے 2 ممالک کی سرحدیں عبور کیں، جبکہ حیران کن طور پر پکڑے جانے کے بعد ملزم کو گھر پہنچانے کے لیے لفٹ کی پیشکش بھی کردی۔

latest urdu news

اپنی گاڑی کی چابیاں اندر چھوڑ کر اسے کھلا چھوڑ دینا کسی بھی صورت محفوظ فیصلہ نہیں، لیکن جب گاڑی کروڑوں روپے کے بجائے لاکھوں ڈالر مالیت کی ہو تو یہ لاپروائی انتہائی مہنگی ثابت ہوسکتی ہے۔ ایسا ہی واقعہ گاڑیاں بنانے والی کمپنی بوگاٹی ریماک کے چیف ایگزیکٹو میٹ ریماک کے ساتھ پیش آیا، جن کی قیمتی بوگاٹی شیرون کروشیا میں کمپنی کی ایک عمارت کے باہر سے چوری ہوگئی۔

میٹ ریماک کے مطابق وہ اکثر اپنی گاڑیوں کو کھلا چھوڑ دیتے تھے اور چابیاں بھی اندر ہی رہنے دیتے تھے۔ انہیں شاید یہ توقع نہیں تھی کہ کوئی شخص اتنی مہنگی گاڑی چرانے کی کوشش کرے گا، لیکن اس بار ان کا اندازہ غلط ثابت ہوا۔

ملازم نے گاڑی چوری ہونے کی اطلاع دی

میٹ ریماک نے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں بتایا کہ کمپنی کے ایک ملازم نے ان کی بوگاٹی کو عمارت سے تیزی سے نکلتے ہوئے دیکھا اور فوری طور پر عملے کو خبردار کردیا۔

اس کے بعد ایک گروپ چیٹ بنائی گئی تاکہ تصدیق کی جاسکے کہ گاڑی کسی مجاز شخص کے پاس ہے یا اسے چوری کیا گیا ہے۔ جلد ہی واضح ہوگیا کہ گاڑی کسی اجازت کے بغیر لے جائی گئی تھی۔

میٹ ریماک نے پولیس سے رابطہ کیا، لیکن وہ صرف حکام کی کارروائی کا انتظار کرنے کے بجائے خود بھی گاڑی کی تلاش میں نکل پڑے۔ خوش قسمتی سے ان کے پاس ایک دوسری لگژری گاڑی موجود تھی، جس میں کافی ایندھن بھی تھا۔

انہوں نے اسی گاڑی میں چوری شدہ بوگاٹی کا پیچھا شروع کردیا۔

لائیو ٹیکنالوجی سے چور کی نگرانی

میٹ ریماک کی بوگاٹی میں لائیو ٹیلی میٹری کا نظام نصب تھا، جس کی مدد سے وہ گاڑی کی موجودہ لوکیشن، ایندھن کی مقدار اور دیگر معلومات حقیقی وقت میں دیکھ سکتے تھے۔ تاہم، وہ اس نظام کے ذریعے گاڑی کو دور سے روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔

چوری کے تقریباً ایک گھنٹے بعد شروع ہونے والا تعاقب اس وقت مزید دلچسپ ہوگیا جب چور گاڑی لے کر کروشیا سے پڑوسی ملک سلوانیا کی جانب روانہ ہوگیا۔

میٹ ریماک کو امید تھی کہ پولیس چور کو سرحد عبور کرنے سے پہلے پکڑ لے گی، لیکن ایسا نہ ہوسکا اور گاڑی آسٹریا پہنچ گئی۔ اس دوران گاڑی کا ایندھن کم ہونے لگا، جس پر میٹ ریماک کو توقع تھی کہ چور کسی پیٹرول پمپ پر رکے گا۔

تاہم، ان کے مطابق چور نے پیٹرول پمپ پر رکنے کے بجائے گاڑی میں پیٹرول سے بھرا آدھا ٹینک ڈال لیا اور سفر جاری رکھا۔

بھارت: پسند کی شادی کے لیے 100 فٹ بلند ٹاور پر چڑھنے والی لڑکی آن لائن نکاح کے بعد نیچے اتر آئی

آسٹریا میں پولیس نے گاڑی روک لی

بالآخر یہ تعاقب اس وقت ختم ہوا جب آسٹریا کی پولیس نے گاڑی کو روک لیا۔ میٹ ریماک کے مطابق گروپ چیٹ میں شامل ایک پولیس اہلکار نے بھی اس کارروائی میں کردار ادا کیا۔

اس واقعے کا سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ میٹ ریماک نے چور کے خلاف معاملہ آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں گاڑی چرانے والے شخص سے ہمدردی محسوس ہوئی اور انہوں نے اسے گھر واپس پہنچانے کے لیے لفٹ کی پیشکش بھی کی، تاہم پولیس نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔

اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ملزم کو قانونی کارروائی سے مکمل طور پر استثنیٰ مل گیا۔ اتنی مہنگی گاڑی کی چوری ایک سنگین معاملہ ہے اور مالک کی جانب سے کیس آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ لازماً قانونی کارروائی کے خاتمے کا سبب نہیں بنتا۔

واقعے کے بعد میٹ ریماک نے اپنی عادت بدل دی

اس غیر معمولی واقعے نے بوگاٹی ریماک کے سربراہ کو بھی اپنی گاڑیوں کی سکیورٹی کے حوالے سے سبق سکھا دیا۔

میٹ ریماک نے اعتراف کیا کہ وہ آئندہ گاڑی میں چابیاں چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ یوں ایک مہنگی گاڑی کی چوری، دو ممالک تک تعاقب اور ملزم کو گھر چھوڑنے کی پیشکش پر مشتمل یہ واقعہ ان کے لیے ایک ایسا تجربہ بن گیا جس کے بعد انہوں نے اپنی عادت تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں