افغان مہاجرین سے متعلق وفاق کی پالیسی اپنائیں گے، گورنر خیبرپختونخوا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت افغان مہاجرین سے متعلق وفاقی حکومت کی پالیسی پر عمل کرے گی، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو پاکستان چھوڑ کر واپس جانا ہوگا۔ انہوں نے صوبے میں امن کے قیام، ضم اضلاع کو وسائل کی فراہمی اور بدعنوانی کے خلاف کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

latest urdu news

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ افغان مہاجرین کے معاملے پر وفاقی حکومت کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو واپس جانا ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے پر صوبے کی پالیسی وفاق کے فیصلوں کے مطابق ہوگی۔

ضم اضلاع کو وسائل فراہم کیے جائیں گے

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے 160 ارب روپے فراہم کیے جا رہے ہیں، جن میں سے 70 فیصد رقم ان علاقوں پر خرچ کی جائے گی جو ماضی میں محرومی کا شکار رہے ہیں۔

گورنر کے مطابق ضم اضلاع کو بھی وسائل فراہم کیے جائیں گے تاکہ ان علاقوں کی ضروریات پوری کرنے اور ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ محروم علاقوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ ان کے بیان کے مطابق مختص رقم کا بڑا حصہ ان علاقوں پر خرچ کرنے کا مقصد ماضی کی محرومیوں کا ازالہ کرنا ہے۔

صوبے میں امن کے لیے اتفاق رائے ضروری ہے

گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن امن کے قیام کے لیے سب کو متفق ہونا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو امن کا گہوارہ بنانا اور اس کا تشخص بہتر کرنا ضروری ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے اس بات پر زور دیا کہ امن کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں اور اختلافات کے باوجود صوبے کے مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔

بدعنوانی اور جرائم پر کارروائی ہونی چاہیے، فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا نے بدعنوانی اور جرائم کے خلاف کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے خلاف بدعنوانی کے الزامات سامنے آتے ہیں تو کارروائی ہونی چاہیے، جبکہ کسی شخص پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسے قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سزا اور جزا کا مؤثر نظام قائم نہیں ہوگا، حالات بہتر نہیں ہوسکیں گے۔

فیصل کریم کنڈی کے مطابق قانون کی عمل داری اور احتساب کے نظام کو مؤثر بنانا ضروری ہے تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہو اور عوام کا اعتماد بحال ہوسکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں