کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو نے 2026 کے امریکی مڈٹرم انتخابات میں بذریعہ ڈاک ووٹ کاسٹ کیا ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ویٹیکن نے بھی اس کی تصدیق کردی ہے۔
پوپ لیو نے شکاگو میں میل ان بیلٹ جمع کرایا
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق امریکی شہریت رکھنے والے پوپ لیو نے 2026 کے الینوائے مڈٹرم انتخابات میں بذریعہ ڈاک اپنا ووٹ ڈالا۔
ویٹیکن کے ہولی سی پریس آفس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ پوپ لیو نے شکاگو میں اپنا میل ان بیلٹ جمع کرایا۔
بیان کے مطابق پوپ لیو شہریوں کے جمہوری عمل میں حصہ لینے کے حق اور فرض پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ ان کے ووٹ ڈالنے کو جمہوری عمل میں شہریوں کی شرکت کی اہمیت کے حوالے سے دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی انتخابات میں ووٹ دینے والے پہلے پوپ؟
ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی شہریت کے حامل پوپ لیو ممکنہ طور پر کسی سیکولر جمہوری انتخاب میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ ہیں۔
پوپ کا منصب دنیا بھر کے کیتھولک مسیحیوں کے لیے مذہبی اہمیت رکھتا ہے، تاہم پوپ لیو کا امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنا ان کی امریکی شہریت اور شہری حقوق کے حوالے سے بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
ویٹیکن کے بیان میں ووٹ ڈالنے کے عمل کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ انہیں تاریخ میں ایسا کرنے والا پہلا پوپ قرار دینے کے دعوے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایرانی صدر کا امریکی حملوں کی مخالفت پر پوپ لیو کا شکریہ
صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس سے اختلافات
پوپ لیو کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ مختلف معاملات پر اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق ایران میں جنگ اور امریکا میں تارکین وطن کے ساتھ سلوک جیسے معاملات پر پوپ لیو کے دونوں امریکی رہنماؤں کے ساتھ اختلافات رہے ہیں۔
ان معاملات پر پوپ کے مؤقف نے مذہبی قیادت اور امریکی سیاسی پالیسیوں کے درمیان تعلق کو بھی نمایاں کیا ہے۔ تاہم، ووٹ ڈالنے کے فیصلے کو ان اختلافات سے جوڑنے کے لیے کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی۔
پوپ لیو کی جانب سے ووٹ ڈالنے کی تصدیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی انتخابات میں شہریوں کی شرکت اور تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں پر بحث جاری ہے۔
