اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بیرئیر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے دونوں ملزمان پر مختلف دفعات کے تحت جرمانے بھی عائد کیے ہیں۔ فیصلہ اڈیالہ جیل میں سنایا گیا۔
اڈیالہ جیل میں عدالت کا فیصلہ
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ عدالتی حکم کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو قید کے ساتھ مختلف دفعات کے تحت جرمانوں کی سزائیں بھی دی گئیں۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ تین مختلف انفرادی دفعات کے تحت دونوں ملزمان کی مجموعی سزا 13 سال بنتی ہے، تاہم دفعہ 182 کے فائدے کے باعث انہیں 10، 10 سال قید کاٹنا ہوگی۔
مقدمے میں عائد جرمانوں کی تفصیلات کے مطابق مختلف دفعات کے تحت 50 ہزار روپے کے جرمانے بھی شامل ہیں۔
مقدمہ کب درج ہوا؟
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف یہ مقدمہ 25 اکتوبر 2024 کو درج کیا گیا تھا۔ مقدمہ بیرئیر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے الزامات سے متعلق تھا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کی جانب سے کارروائی میں نمائندگی کے لیے اسٹیٹ کونسل مقرر کیا تھا۔ اسٹیٹ کونسل عاطف محمود نے استغاثہ کے گواہان پر جرح کی۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ ضمانت کیس، ریکارڈ پیش نہ ہونے پر جج برہم، ڈی ایس پی کی سرزنش
استغاثہ کی جانب سے مقدمے میں مجموعی طور پر 7 گواہ پیش کیے گئے، جبکہ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ملزمان پر 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
مختلف دفعات کے تحت سزا اور جرمانے
عدالت نے مقدمے میں شامل مختلف قانونی دفعات کے تحت سزائیں سنائیں۔ عدالتی حکم کے مطابق تین الگ دفعات کے تحت انفرادی سزاؤں کا مجموعہ 13 سال بنتا تھا، تاہم دفعہ 182 کے تحت حاصل رعایت کے باعث دونوں ملزمان کو 10 سال قید کی سزا کاٹنا ہوگی۔
فیصلے میں جرمانوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے، تاہم دستیاب تفصیلات میں ہر دفعہ کے تحت الگ الگ جرمانے اور سزاؤں کی مکمل تقسیم بیان نہیں کی گئی۔
عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد مقدمہ ایک اہم قانونی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف کارروائی کا تعلق اکتوبر 2024 میں درج ہونے والے مقدمے سے ہے، جس میں استغاثہ نے اپنے گواہان پیش کیے اور عدالت نے دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر فیصلہ سنایا۔
