ایس ایچ او کوٹ لکھپت کی 200 روپے جرمانے کی سزا 50 ہزار کے مچلکوں کے عوض معطل

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ نے ریکارڈ پیش نہ کرنے پر ایس ایچ او کوٹ لکھپت افضل رؤف کو انسدادِ منشیات عدالت کی جانب سے سنائی گئی 200 روپے جرمانے کی سزا معطل کردی۔ عدالت نے سزا کی معطلی 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے اپیل پر نوٹس جاری کردیا اور ٹرائل کورٹ سے مقدمے کا ریکارڈ طلب کرلیا۔

latest urdu news

ایس ایچ او کوٹ لکھپت کو جرمانہ کیوں ہوا تھا؟

لاہور کی انسدادِ منشیات عدالت نے مقدمے کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر ایس ایچ او کوٹ لکھپت افضل رؤف کو 200 روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

عدالت کی جانب سے یہ سزا ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر دی گئی تھی۔ تاہم، دستیاب معلومات میں متعلقہ مقدمے کی نوعیت اور ریکارڈ پیش نہ ہونے کی وجوہات کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

انسدادِ منشیات عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ایس ایچ او افضل رؤف نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور سزا معطل کرنے کی درخواست کی۔

لاہور ہائیکورٹ نے سزا معطل کردی

ایس ایچ او افضل رؤف کی اپیل پر سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے 200 روپے جرمانے کی سزا 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض معطل کردی۔

عدالت نے اپیل پر نوٹس بھی جاری کردیا، جبکہ آئندہ سماعت تک سزا معطل رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت رہے گا اور اپیل پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی قیادت نے مذاکرات کی حمایت کر دی

عدالت نے متعلقہ ٹرائل کورٹ سے مقدمے کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے تاکہ معاملے کا جائزہ لے کر آئندہ قانونی کارروائی کی جاسکے۔

مقدمے کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے گا

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ طلب کرنے کا مقصد اپیل میں اٹھائے گئے نکات کا جائزہ لینا ہے۔ ریکارڈ موصول ہونے کے بعد عدالت مقدمے کے متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور اس کے مطابق مزید کارروائی ہوگی۔

فی الحال عدالت نے صرف جرمانے کی سزا معطل کی ہے۔ اپیل کے حتمی فیصلے اور آئندہ سماعت سے متعلق تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

اس طرح ایس ایچ او افضل رؤف کی اپیل پر لاہور ہائیکورٹ کی کارروائی جاری ہے، جبکہ انسدادِ منشیات عدالت کے فیصلے کا حتمی معاملہ مزید عدالتی جائزے سے مشروط ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں