کراچی: داؤد انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے داخلہ ٹیسٹ کے نتائج میں مختلف تعلیمی بورڈز کے امیدواروں کی کامیابی کے تناسب میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ کراچی بورڈ کے تقریباً 92 فیصد امیدوار ٹیسٹ میں کامیاب قرار پائے، جبکہ اندرون سندھ کے بیشتر تعلیمی بورڈز کے نتائج اس کے مقابلے میں کم رہے۔ نتائج نے سندھ میں سرکاری تعلیمی اداروں کے معیار اور طلبہ کی تیاری سے متعلق بحث کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔
داؤد یونیورسٹی کے داخلہ ٹیسٹ میں مختلف بورڈز کی کارکردگی
آئی بی اے کراچی کے تحت ہونے والے داخلہ ٹیسٹ کے نتائج کے مطابق، کیمبرج سسٹم کے تمام امیدوار کامیاب قرار پائے۔ آغا خان ایجوکیشنل بورڈ کے 49 امیدواروں میں سے 48 نے کامیابی حاصل کی، جو تقریباً 98 فیصد بنتی ہے۔
کراچی بورڈ سے سب سے زیادہ 1,662 امیدواروں نے ٹیسٹ کے لیے درخواست دی، جن میں سے 1,521 امیدوار اہل قرار پائے۔ اس طرح کراچی بورڈ کے امیدواروں کی کامیابی کا تناسب تقریباً 92 فیصد رہا۔
دوسری جانب اندرون سندھ کے مختلف تعلیمی بورڈز کے نتائج درج ذیل رہے:
- نوابشاہ بورڈ: 78 فیصد
- لاڑکانہ بورڈ: 75 فیصد
- حیدرآباد بورڈ: 74 فیصد
- ضیاءالدین امتحانی بورڈ: تقریباً 73 فیصد
- میرپورخاص بورڈ: 71 فیصد
- سکھر بورڈ: 69 فیصد
- سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن: تقریباً 62 فیصد
ان اعداد و شمار کے مطابق، کیمبرج، آغا خان اور کراچی بورڈ کے امیدواروں سمیت صرف 3 بورڈز کے نتائج 92 فیصد یا اس سے زیادہ رہے۔
این ای ڈی یونیورسٹی کے داخلہ ٹیسٹ میں بھی فرق سامنے آیا
رپورٹ کے مطابق، اس سے قبل جامعہ این ای ڈی کے داخلہ ٹیسٹ میں بھی مختلف تعلیمی بورڈز کے امیدواروں کی کارکردگی میں نمایاں فرق دیکھا گیا تھا۔
این ای ڈی کے داخلہ ٹیسٹ میں کیمبرج سسٹم کے طلبہ کی کامیابی کا تناسب 94 فیصد، آغا خان ایجوکیشن بورڈ کے طلبہ کا 88 فیصد اور فیڈرل بورڈ کے امیدواروں کا 83.71 فیصد رہا تھا، جبکہ کراچی بورڈ کے امیدواروں کی کامیابی کا تناسب 80 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
اس کے برعکس اندرون سندھ کے کئی بورڈز کے امیدواروں کی کامیابی کی شرح نسبتاً کم رہی۔ حیدرآباد بورڈ کے طلبہ کا تناسب 46.83 فیصد، نوابشاہ بورڈ کا 42.03 فیصد، میرپورخاص بورڈ کا 40.43 فیصد، لاڑکانہ بورڈ کا 36.71 فیصد اور سکھر بورڈ کا 35.06 فیصد رہا۔
یہ نتائج مختلف بورڈز کے طلبہ کی داخلہ ٹیسٹ میں کارکردگی کے درمیان فرق کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم اس فرق کی وجوہات جاننے کے لیے تدریسی معیار، نصاب، امتحانی تیاری اور دیگر عوامل کا تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔
ایم ڈی کیٹ 2026 کا داخلہ امتحان جاری، ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد امیدوار شریک
ایم ڈی کیٹ کے نتائج نے ایک مختلف تصویر پیش کی
دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی بی اے سکھر کے تحت میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے ہونے والے ایم ڈی کیٹ امتحان میں اندرون سندھ کے طلبہ نے نمایاں کارکردگی دکھائی تھی۔
رپورٹ کے مطابق، ایم ڈی کیٹ کے ٹاپ 20 امیدواروں میں کیمبرج سسٹم، آغا خان بورڈ اور انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی کا کوئی طالب علم شامل نہیں تھا، جبکہ انجینئرنگ کے داخلہ ٹیسٹ میں ان تعلیمی نظاموں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کی کامیابی کا تناسب نمایاں رہا۔
یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مختلف داخلہ امتحانات میں طلبہ کی کارکردگی یکساں نہیں رہتی۔ کسی ایک امتحان کے نتائج کی بنیاد پر پورے تعلیمی نظام یا کسی علاقے کے تمام تعلیمی اداروں کے معیار کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں۔
تعلیمی معیار اور طلبہ کی تیاری پر سوالات
داؤد انجینئرنگ اور این ای ڈی یونیورسٹی کے داخلہ ٹیسٹ کے نتائج نے سندھ میں تعلیمی مواقع، تدریسی معیار اور داخلہ امتحانات کی تیاری کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے ہیں۔
تاہم، مختلف بورڈز کے کامیابی کے تناسب کا درست موازنہ کرنے کے لیے امیدواروں کی تعداد، ٹیسٹ کے معیار، اہلیت کی شرائط اور طلبہ کے تعلیمی پس منظر کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
ان نتائج کی بنیاد پر اندرون سندھ کے تمام سرکاری تعلیمی اداروں کے معیار کے بارے میں یکساں رائے قائم نہیں کی جا سکتی، لیکن یہ اعداد و شمار تعلیمی فرق کی وجوہات کا جائزہ لینے اور طلبہ کو بہتر تیاری کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت کو ضرور اجاگر کرتے ہیں۔
