چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا ایکشن، ڈسپلن کی خلاف ورزی پر خاتون سول جج برطرف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سپریم کورٹ سے ڈیپوٹیشن ختم ہونے کے بعد مسلسل غیر حاضری پر سول جج ظلِ ہما کے خلاف کارروائی کی گئی

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے مس کنڈکٹ اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کے معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے خاتون سول جج ظلِ ہما کو برطرف کردیا۔

latest urdu news

خاتون سول جج کے خلاف یہ کارروائی سپریم کورٹ سے ان کی ڈیپوٹیشن ختم ہونے کے بعد مسلسل غیر حاضری اور وضاحت طلب کیے جانے کے باوجود جواب نہ دینے پر کی گئی۔

سپریم کورٹ سے ڈیپوٹیشن ختم ہونے کے بعد غیر حاضری

جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق سول جج ظلِ ہما کی سپریم کورٹ میں ڈیپوٹیشن ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد انہیں اپنے متعلقہ عدالتی فرائض انجام دینے تھے۔

تاہم نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ڈیپوٹیشن ختم ہونے کے بعد سول جج مسلسل غیر حاضر رہیں۔ مسلسل غیر حاضری کو ڈسپلن کی خلاف ورزی اور مس کنڈکٹ کے زمرے میں لیا گیا، جس کے بعد ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی گئی۔

عدالتی نظام میں ججز کی حاضری اور فرائض کی باقاعدگی سے انجام دہی کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ عدالتوں کی کارروائی براہ راست مقدمات میں فریقین کے حقوق اور انصاف کی فراہمی سے منسلک ہوتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: نکاح کے بعد طے شدہ حقوق سے محرومی ناقابلِ قبول قرار

شوکاز نوٹس کا بھی جواب نہیں دیا

نوٹیفکیشن کے مطابق سول جج کو اپنے طرز عمل کی وضاحت کا موقع بھی فراہم کیا گیا تھا۔ انہیں شوکاز نوٹس جاری کرکے مسلسل غیر حاضری کی وجہ بتانے کے لیے کہا گیا۔

تاہم نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ سول جج نے شوکاز نوٹس کا جواب بھی جمع نہیں کرایا۔

وضاحت کا موقع دیے جانے کے باوجود جواب نہ ملنے کے بعد معاملہ مزید کارروائی کے لیے آگے بڑھایا گیا اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے مس کنڈکٹ اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کے الزام پر خاتون سول جج کو ملازمت سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا۔

ڈسپلن کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی

عدالتی نظام میں ججز سے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں، ضابطہ اخلاق اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کی پابندی کی توقع کی جاتی ہے۔ ایسے معاملات میں متعلقہ جج کو وضاحت پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے تاکہ ان کے مؤقف کو بھی کارروائی کا حصہ بنایا جاسکے۔

ظلِ ہما کے معاملے میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مسلسل غیر حاضری اور شوکاز نوٹس کا جواب نہ دینے کے بعد ان کے خلاف برطرفی کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی کو عدالتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا اقدام قرار دیا گیا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں