سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کا انکشاف ہوا ہے، ایک لاکھ سے زائد یمنی اہلکاروں کو متحرک کیے جانے کا امکان ہے۔
رائٹرز کے مطابق منصوبے کے تحت سعودی فضائی حملوں کی مدد سے یمنی فورسز زمینی کارروائی کریں گی، آپریشن آئندہ چند ہفتوں میں شروع کیے جانے کا امکان ہے۔
رپورٹ کےمطابق سعودی عرب دو آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں آبنائے باب المندب کے اطراف محدود کارروائی یا یمن کے البیضا، مارب، تعز اور الجوف میں بیک وقت متعدد محاذوں پر وسیع آپریشن شامل ہے۔
رائٹرز کےمطابق امریکا سعودی کارروائی کے لیے انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معلومات فراہم کر رہا ہے،تاہم امریکی افواج کی براہِ راست جنگی کارروائی میں شمولیت متوقع نہیں۔
سعودی عرب کے کئی شہروں پر حوثی ڈرون حملوں کا خدشہ،مکہ مکرمہ سمیت مختلف شہروں میں ہنگامی انتباہ جاری
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ پاکستان اور ترکی سعودی عرب کو دفاعی اور عسکری سازوسامان فراہم کر رہے ہیں، تاہم یمن میں جنگی کردار ادا کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
