میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے پولیس کے اعلیٰ افسران اور تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کے لیے سوالنامے جوڈیشل کمیشن میں جمع کرا دیے۔
کراچی: میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں مقتول کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے جوڈیشل کمیشن کو مزید سوالات جمع کرا دیے ہیں۔ ان سوالات میں پولیس کے اعلیٰ افسران اور کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ سے متعلق امور شامل ہیں۔
جبران ناصر نے بتایا کہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) آزاد خان اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) فرخ لنجار کے لیے الگ الگ سوالنامے کمیشن میں جمع کرائے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی عامر فاروقی کے لیے بھی سوالات جمع کروائے گئے ہیں۔
پولیس افسران سے متعلق سوالات جمع
اہلخانہ کے وکیل کی جانب سے جوڈیشل کمیشن میں جمع کرائے گئے سوالناموں میں کیس کی تحقیقات اور پولیس کے کردار سے متعلق امور شامل ہیں۔ جبران ناصر کے مطابق ان سوالات کا مقصد متعلقہ افسران سے کیس کی تفتیش کے مختلف پہلوؤں پر وضاحت حاصل کرنا ہے۔
تاہم دستیاب معلومات میں ان سوالات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ یہ سوالنامے کمیشن کی کارروائی کے دوران متعلقہ پولیس افسران کے سامنے رکھے جانے ہیں۔
میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ اہلخانہ کی جانب سے بھی کیس سے متعلق سوالات اور تحفظات کمیشن کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں۔
میر رضا کیس: غفلت برتنے پر ایس ایچ او اور ایس ڈی پی او معطل
10 شہریوں نے کمیشن سے رابطہ کیا
ذرائع کے مطابق اب تک 10 شہری براہ راست جوڈیشل کمیشن سے رابطہ کرچکے ہیں۔ ان شہریوں نے کرپٹو ٹریڈنگ سے جڑے مبینہ مختصر مدتی اغوا کے واقعات کے حوالے سے اپنے تحفظات کمیشن کے سامنے رکھے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شہریوں نے کمیشن سے کرپٹو ٹریڈنگ سے متعلق معاملات کی تحقیقات کی درخواست بھی کی ہے۔
کرپٹو ٹریڈنگ ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت سے متعلق ایک آن لائن مالی سرگرمی ہے، تاہم اس معاملے میں شہریوں کی جانب سے اٹھائے گئے مخصوص خدشات اور ان کے میر رضا کیس سے ممکنہ تعلق کی مکمل تفصیلات فی الحال سامنے نہیں آئی ہیں۔
کمیشن کے سامنے مزید کارروائی متوقع
اہلخانہ کے وکیل کی جانب سے نئے سوالات جمع کرائے جانے اور شہریوں کے براہ راست کمیشن سے رابطے کے بعد کیس کی تحقیقات میں مزید امور زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
اب کمیشن کی کارروائی میں متعلقہ پولیس افسران سے ان سوالات کے جوابات حاصل کیے جانے اور شہریوں کی جانب سے پیش کیے گئے کرپٹو ٹریڈنگ سے متعلق تحفظات کا جائزہ لیے جانے کی توقع ہے۔ تاہم ان معاملات پر حتمی نتیجہ کمیشن کی تحقیقات اور اس کی آئندہ کارروائی کے بعد ہی سامنے آسکے گا۔
