بغیر بازوؤں کے ریسنگ ڈرائیور نے تیز رفتار گاڑی چلانے کا منفرد طریقہ ڈھونڈ لیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

23 سالہ کلوم اسمتھ خصوصی ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے پیروں کے ذریعے ریسنگ کار چلاتے ہیں اور 110 میل فی گھنٹہ تک کی رفتار حاصل کرچکے ہیں۔

latest urdu news

23 سالہ کلوم اسمتھ نے ریسنگ کی دنیا میں ایک منفرد مثال قائم کردی ہے۔ پیدائشی طور پر دونوں بازوؤں سے محروم کلوم اسمتھ خصوصی تکنیک اور آلات کی مدد سے تیز رفتار ریسنگ کار چلاتے ہیں اور اب ان کا خواب دنیا کی مشہور لی مانز ریس میں حصہ لینا ہے۔

انگلینڈ میں فنانس اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے والے کلوم اسمتھ نے حال ہی میں اپنا پہلا ڈرائیور کنٹریکٹ حاصل کیا اور ٹیم BRIT کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس طرح وہ ایسے ریسنگ ڈرائیور کے طور پر سامنے آئے ہیں جو دونوں ہاتھوں کے بغیر باقاعدہ ریسنگ مقابلوں میں شرکت کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

پیروں سے اسٹیئرنگ اور پیڈلز کنٹرول

کلوم اسمتھ کی ریسنگ کار میں ایک خصوصی اسٹیئرنگ پلیٹ نصب کی گئی ہے، جسے جم ڈوران ہینڈ کنٹرولز نے ان کے لیے ڈیزائن کیا ہے۔

اس منفرد نظام کے ذریعے وہ اپنے بائیں پیر سے اسٹیئرنگ پلیٹ کو گھماتے ہیں، جبکہ دایاں پیر ایکسیلیٹر اور بریک کو کنٹرول کرتا ہے۔ اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے وہ ریسنگ ٹریک پر گاڑی کو تیز رفتاری سے چلانے کے قابل ہوئے ہیں۔

کلوم اسمتھ اب تک ریسنگ کار کو 110 میل فی گھنٹہ تک کی رفتار سے چلا چکے ہیں، جو تقریباً 177 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔

دو سال کی عمر میں ریسنگ کا شوق پیدا ہوا

کلوم اسمتھ کو بچپن ہی سے موٹر اسپورٹس میں دلچسپی تھی۔ ان کے مطابق جب وہ صرف 2 سال کے تھے تو اپنے دادا کے ساتھ ایک بائیک ریسنگ مقابلہ دیکھا، جس کے بعد انہیں ریسنگ کی دنیا سے محبت ہوگئی۔

تاہم ریسنگ کو عملی طور پر اپنانے میں انہیں کئی سال لگے۔ انہوں نے جولائی 2025 میں اپنا پہلا ٹریک ڈے مکمل کیا، جس کے بعد ان کا اعتماد مزید بڑھا۔

استاد کی نظر نے کروڑوں سال پرانے ڈائنا سور کے قدموں کے نشان ڈھونڈ لیے

بعد ازاں اپریل 2026 میں انہوں نے 3.66 میل طویل سرکٹ کو 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مکمل کیا۔ یہ تجربہ ان کے لیے اس مقصد کی جانب ایک اہم قدم تھا جسے وہ طویل عرصے سے حاصل کرنا چاہتے تھے۔

لی مانز ریس میں شرکت کا خواب

کلوم اسمتھ کا کہنا ہے کہ وہ ریسنگ کی دنیا میں ایک نئی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ پہلے ایسے شخص بننے جا رہے ہیں جو بغیر ہاتھوں کے باقاعدہ کار ریسنگ کا حصہ بنے گا۔

اب ان کی نظریں مکمل ریسنگ لائسنس حاصل کرنے پر ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ وہ بہت جلد مطلوبہ لائسنس حاصل کرلیں گے، جس کے بعد وہ مزید بڑے مقابلوں میں شرکت کے لیے اپنی صلاحیتوں کو آزما سکیں گے۔

ان کا سب سے بڑا خواب فرانس میں ہونے والی مشہور 24 آورز آف لی مانز اسپورٹس کار ریس میں حصہ لینا ہے۔ اس مقابلے میں ڈرائیورز کو طویل دورانیے تک تیز رفتار اور انتہائی مشکل حالات میں گاڑی چلانا ہوتی ہے۔

کلوم اسمتھ کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ جسمانی رکاوٹیں کسی شخص کے جذبے اور مقصد کے حصول کی راہ میں لازمی طور پر رکاوٹ نہیں بنتیں۔ جدید ٹیکنالوجی، مسلسل تربیت اور عزم کی مدد سے وہ موٹر اسپورٹس میں اپنے لیے ایک منفرد راستہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter