سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ایف بی آر کے افسران کو تمغہ امتیاز کیلئے نامزد کیے جانے پر ارکان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور مبینہ اربوں روپے کی کرپشن کے معاملے پر سوالات اٹھائے۔
ایف بی آر افسران کی نامزدگی پر سوالات
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال اور دیگر افسران کو تمغہ امتیاز کیلئے نامزد کیے جانے پر سخت تنقید کی گئی۔
اجلاس کے دوران سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایف بی آر کے افسران کو اعزاز کیلئے نامزد کیے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر کی موجودگی میں 1100 ارب روپے کی کرپشن پکڑی گئی، لیکن اس کے باوجود حکومت نے ایف بی آر کے افسران کو تمغہ امتیاز کیلئے نامزد کردیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر 1120 ارب روپے کی کرپشن سامنے آنے پر تمغہ امتیاز دیا جاتا ہے تو ایوان کو اس معاملے پر احتجاج کرنا چاہیے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی سخت تنقید
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اجلاس میں ایف بی آر کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کمپنیوں کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں تو ایف بی آر کو اس پر کیا اعتراض ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مبینہ فراڈ میں متعلقہ صنعتوں کے ساتھ ایف بی آر کے لوگ بھی شامل ہیں۔ سیف اللہ ابڑو کے مطابق اتنی بڑی مالی بے ضابطگی سامنے آنے کے باوجود حکومت کی جانب سے ایف بی آر کے چار افسران کو تمغہ امتیاز کیلئے نامزد کرنا قابلِ سوال ہے۔
گزشتہ مالی سال بجلی کے بلوں سے 476 ارب روپے سے زائد ٹیکس وصول، ایف بی آر کا انکشاف
سینیٹر نے مطالبہ کیا کہ معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ اتنی بڑی رقم کی مبینہ کرپشن کے معاملے میں ذمہ دار کون ہے۔
نسیمہ احسان کا طنزیہ تبصرہ
اجلاس کے دوران سینیٹر نسیمہ احسان نے بھی ایف بی آر افسران کو اعزاز کیلئے نامزد کیے جانے پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کیا۔
انہوں نے کہا، "بہت محنت لگتی ہے نا اتنی بڑی کرپشن کرنے میں، اس لیے تمغہ امتیاز مل رہا ہے۔”
ان کے اس تبصرے سے اجلاس میں ایف بی آر افسران کی نامزدگی کے معاملے پر ارکان کی ناراضی اور تحفظات کا اظہار ہوا۔
کرپشن کے معاملے پر مزید وضاحت کا مطالبہ
کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آنے والی گفتگو کے مطابق ارکان نے نہ صرف افسران کی اعزاز کیلئے نامزدگی پر سوالات اٹھائے بلکہ ایف بی آر سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
واضح رہے کہ اجلاس میں سینیٹرز کی جانب سے کرپشن اور ایف بی آر افسران کے خلاف جو الزامات بیان کیے گئے، وہ ارکان کے مؤقف پر مبنی ہیں۔ ان الزامات کی حتمی ذمہ داری یا قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔
