مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر انتخاب کے لیے پولنگ جاری ہے، جس کے بعد ایوان مکمل ہونے اور نومنتخب ارکان کے حلف اٹھانے کا عمل شروع ہوگا۔
قانون ساز اسمبلی کی 8 مخصوص نشستوں کے لیے ووٹنگ صبح 10 بجے شروع ہوئی، جو دوپہر 2 بجے تک جاری رہے گی۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن پولنگ کے دوران پریزائیڈنگ افسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
مخصوص نشستوں میں خواتین کی 5، ٹیکنوکریٹس کی ایک، علما و مشائخ کی ایک اور اوورسیز کشمیریوں کی ایک نشست شامل ہے۔ خواتین کی پانچ نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 6 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں مسلم لیگ (ن) کی 4 اور پیپلز پارٹی کی 2 امیدوار شامل ہیں۔
خواتین کی نشستوں پر پیپلز پارٹی کی زوبیہ خورشید بھی امیدوار ہیں، جبکہ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے افتخار گیلانی اور پیپلز پارٹی کے صاحبزادہ ذوالفقار کے درمیان مقابلہ ہے۔ علما و مشائخ کی نشست پر ن لیگ کے مظہر سعید اور پیپلز پارٹی کے طارق محمود آمنے سامنے ہیں۔
اوورسیز کشمیریوں کی مخصوص نشست پر مسلم لیگ (ن) کے عبدالرحمان آرائیں پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔
مخصوص نشستوں کے انتخاب کے بعد قانون ساز اسمبلی کا ایوان مکمل ہوگا، جس کے بعد نومنتخب ارکان اسمبلی سے حلف لیا جائے گا۔ بعد ازاں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب سمیت حکومت سازی کے دیگر اہم مراحل مکمل کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ پونچھ اور سدھنوتی میں انتخابات نہ ہونے کے باعث 7 ارکان کے بغیر ہی حکومت سازی کا عمل آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے 25 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی جماعت کا اعزاز حاصل کیا، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 12 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔
آزاد کشمیر انتخابات کے 3 مراحل مکمل، بڑے سیاسی برج الٹ گئے
دوسری جانب آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس مظفرآباد میں ہوا، جس کی صدارت پارٹی کے صدر شاہ غلام قادر نے کی۔
اجلاس میں نومنتخب ارکان اسمبلی، پارٹی قیادت اور وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ حکومت سازی، مخصوص نشستوں اور اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب سے متعلق حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے خواتین کی مخصوص نشستوں میں سے 4 پر کامیابی کے لیے حکمت عملی تیار کرلی ہے، تاہم قائد ایوان، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے امیدواروں کے ناموں کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اہم عہدوں کے لیے ناموں کی منظوری مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے حاصل کی جائے گی، جس کے بعد آزاد کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل کا عمل مزید آگے بڑھے گا۔
