موت سے قبل میر رضا کے آخری 12 گھنٹے، کہاں گئے اور کس سے ملے؟

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق میر رضا نے آخری گھنٹوں میں مسلسل سرمایہ کاری اور قرض کے حصول کی کوشش کی، جبکہ گھر واپس آنے کے بعد سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے اور والدین کے اکاؤنٹس میں رقم منتقل کی۔

latest urdu news

کراچی کے نوجوان میر رضا کی موت سے قبل گزرنے والے آخری 12 گھنٹوں کے حوالے سے تحقیقاتی ٹیم نے اہم تفصیلات جمع کی ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق میر رضا اپنی موت سے پہلے مسلسل مالی مشکلات کے حل اور سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف تھا اور اس دوران اس نے متعدد افراد سے رابطہ بھی کیا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ جس مقام سے میر رضا کی لاش ملی، وہاں اس وقت اس کے ساتھ کوئی دوسرا شخص موجود نہیں تھا۔ حکام کے مطابق میر رضا نے آخری 12 گھنٹوں کے دوران مختلف افراد سے ملاقاتیں اور فون پر گفتگو کی، جن کا تعلق مبینہ طور پر سرمایہ کاری اور قرض کے حصول سے تھا۔

27 جولائی کو سرمایہ کاری کی کوشش

تحقیقاتی معلومات کے مطابق میر رضا 27 جولائی کی شام 5 بج کر 54 منٹ پر شارع فیصل پر احمد راجہ نامی شخص سے ملا۔ دونوں کے درمیان تقریباً 70 سے 80 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔

دوسری جانب بینک پہلے ہی میر رضا کی جانب سے قرض کے لیے دی گئی ایک درخواست مسترد کرچکا تھا۔ اس کے بعد اس نے اپنی بہن کے نام پر قرض کی درخواست دلوائی۔

رات 7 بج کر 5 منٹ پر میر رضا کو بینک سے فون موصول ہوا، جس میں اسے بتایا گیا کہ اس کی بہن کے نام پر ایک کروڑ روپے کا قرض منظور ہوگیا ہے۔ تاہم، تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا سرمایہ کاری کے لیے فاروق محمود سے بھی مسلسل رابطے میں تھا۔

سرمایہ کاری نہ ملنے پر بڑھتی پریشانی

رات 8 بج کر 23 منٹ پر فاروق محمود نے میر رضا کو فون کرکے سرمایہ کاری کرنے سے معذرت کرلی۔ اس کے بعد بھی میر رضا نے مالی انتظام کی کوششیں جاری رکھیں۔

موت سے تقریباً چار گھنٹے قبل، رات 11 بج کر 50 منٹ پر میر رضا نے اپنے دوست عبدالرازق کے ساتھ غفار کباب ہاؤس میں کھانا کھایا۔

میر رضا قتل کیس میں اہم پیشرفت، پولیس نے ابتدائی اطلاعی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی

اس کے کچھ ہی دیر بعد، رات 12 بجے میر رضا نے صارم سید سے ہنگامی بنیادوں پر 3 کروڑ روپے قرض دینے کی درخواست کی۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق اس نے صارم سید کو پیغام بھیجا کہ اگر اسے قرض نہ ملا تو اگلی صبح اس کے لیے بہت مشکل ہوجائے گی۔

گھر پہنچ کر سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق میر رضا رات 2 بج کر 23 منٹ پر گھر پہنچا اور سب سے پہلے اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ بند کردیا۔

اس کے تقریباً 19 منٹ بعد، رات 2 بج کر 42 منٹ پر اس نے فیس بک، لنکڈ اِن اور اسنیپ چیٹ اکاؤنٹس بھی بند کردیے۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے اچانک غائب ہونے پر اس کی منگیتر کو تشویش ہوئی اور اس نے رات 3 بج کر 10 منٹ پر میر رضا کو متعدد مرتبہ کالز اور پیغامات کیے، تاہم اسے کوئی جواب نہیں ملا۔

ذرائع کے مطابق منگیتر نے اپنے پیغامات میں بھی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

والدین کے اکاؤنٹس میں رقم منتقل کی

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ رات 3 بج کر 18 منٹ پر میر رضا نے اپنے اکاؤنٹس سے رقم اپنے والدین کے اکاؤنٹس میں منتقل کی۔

اس کے تقریباً 24 منٹ بعد، رات 3 بج کر 42 منٹ پر وہ گھر سے اپنی دکان پر پہنچا۔ ذرائع کے مطابق دکان سے میر رضا نے سکیورٹی گارڈ کا پستول نکالا اور اسے اپنے ساتھ لے گیا۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق میر رضا کی موت کے حوالے سے مزید پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ اس پورے معاملے کی تفصیلی رپورٹ آئندہ دنوں میں میڈیا کے سامنے جاری کی جائے گی۔ تاہم، تفتیش مکمل ہونے تک ان واقعات سے متعلق حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter